
نئی دہلی، 04 جولائی (ہ س)۔ دنیا کی سب سے بڑی ڈومین رجسٹرار کمپنیوں میں شامل گوڈیڈی نے فرضی ویب سائٹوں کے خلاف ہندوستان کی سخت کارروائی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ عدالت کی نئی ہدایات نافذ ہونے سے انٹرنیٹ کی سیکورٹی، صارفین کی نجی معلومات (پرائیویسی) اور جائز کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، معاملہ دسمبر 2024 میں دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے جڑا ہے، جس میں ایمیزون، میکڈونلڈز، مائیکروسافٹ، شیاومی اور کولگیٹ-پامولیو سمیت کئی کمپنیوں کی شکایتوں پر 1,100 سے زیادہ فرضی ویب سائٹوں کو بلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کے ساتھ ڈومین رجسٹریشن اور شناخت سے متعلق قوانین کو بھی سخت کرنے کی ہدایات دی تھیں۔
عدالت کے حکم کے مطابق، ڈومین رجسٹرار کمپنیاں اب ڈیفالٹ طور پر مفت پرائیویسی پروٹیکشن دستیاب نہ کرائیں، ڈومین مالکان کی معلومات جائز مفاد رکھنے والے درخواست گزاروں کو 72 گھنٹے کے اندر دستیاب کرائیں اور مشہور برانڈز سے ملتے جلتے ڈومین ناموں کی فروخت پر روک لگائیں۔
گوڈیڈی نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ ان ہدایات سے ویب سائٹ مالکان کے نام، پتہ، فون نمبر اور ای میل جیسی نجی معلومات عام ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس سے انہیں ہراساں کیے جانے، اسٹاکنگ اور سائبر حملوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’جائز مفاد‘‘ کی واضح تعریف نہیں ہونے کی وجہ سے یہ طے کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ کسے رجسٹریشن سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔
کمپنی نے دلیل دی کہ ڈومین نیم سسٹم عالمی سطح پر کام کرتا ہے، اس لیے ہندوستان کے ان قوانین کا اثر دنیا بھر کے انٹرنیٹ نظام پر پڑ سکتا ہے۔ گوڈیڈی کا کہنا ہے کہ اگر ایسی ہدایات نافذ کی گئیں تو کچھ ڈومین سروس فراہم کرنے والوں کو ہندوستان میں اپنا کاروبار محدود کرنے یا بند کرنے پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
گوڈیڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مفت پرائیویسی پروٹیکشن ہٹانا ہندوستان کے ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور یورپی یونین کے جی ڈی پی آر جیسے بین الاقوامی رازداری کے معیارات کے مطابق نہیں ہے، جو ’’پرائیویسی بائی ڈیفالٹ‘‘ کے تصور کو فروغ دیتے ہیں۔
دوسری طرف، مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ جعلی ویب سائٹوں اور ڈومین کے غلط استعمال کی وجہ سے سائبر جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے عدالت میں کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے لیے ڈومین رجسٹریشن سے جڑی معلومات کا آسانی سے دستیاب ہونا ضروری ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ بھی حال ہی میں سائبر مجرم کو ملک کے لیے سنگین چیلنج بتا چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن