بھارت-جاپان تعاون پر چین کا ردعمل:  تیسرے ملک سے ٹکراؤ کی طرف نہیں جانی چاہئے یہ شراکت داری
نئی دہلی/بیجنگ، 4 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان اور جاپان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کا مقصد کسی تیسرے ملک بالخصوص چین کو نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے ج
چین بھارت-جاپان تعاون پر: شراکت داری کو تصادم کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔  نئی دہلی/بیجنگ، 4 جولائی (ہ س) ہندوستان اور جاپان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کا مقصد کسی تیسرے ملک بالخصوص چین کو نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان اور جاپان نے اہم معدنیات اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔  سنگاپور کے بڑے نیوز نیٹ ورک سی این اے (چینل نیوز ایشیا) کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے جمعہ کو کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ کسی تیسرے فریق کے مفادات کو نقصان پہنچانا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی اتحاد یا تعاون تصادم میں اضافے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔  یہ ریمارکس نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپان کے سانائے تاکائیچی کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد ہیں، جہاں اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے جیسے مسائل پر بات چیت ہوئی۔ یہ معدنیات برقی گاڑیوں، اسمارٹ فونز اور دفاعی آلات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔  چین اور جاپان کے تعلقات حالیہ برسوں میں تائیوان کے مسئلے اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر کشیدہ رہے ہیں۔ بیجنگ نے جاپان کی جانب سے تائیوان کے بحران کی صورت میں ممکنہ فوجی مداخلت کے حوالے سے کیے گئے ریمارکس پر بھی اعتراض کیا تھا۔  رپورٹس کے مطابق، چین نے حال ہی میں کچھ جاپانی کمپنیوں کو برآمدی پابندیوں کی فہرست میں رکھا ہے- اس اقدام کو ٹوکیو نے ناقابل قبول اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔  دریں اثنا، ہندوستان اور جاپان دونوں نے کہا ہے کہ وہ اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو بڑھا کر سپلائی چین کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔


نئی دہلی/بیجنگ، 4 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان اور جاپان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کا مقصد کسی تیسرے ملک بالخصوص چین کو نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ہندوستان اور جاپان نے اہم معدنیات اور اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

سنگاپور کے بڑے نیوز نیٹ ورک سی این اے (چینل نیوز ایشیا) کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے جمعہ کو کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ کسی تیسرے فریق کے مفادات کو نقصان پہنچانا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی اتحاد یا تعاون تصادم میں اضافے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

یہ ریمارکس نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپان کے سانائے تاکائیچی کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد آئے یں، جہاں اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے جیسے مسائل پر بات چیت ہوئی۔ یہ معدنیات برقی گاڑیوں، اسمارٹ فونز اور دفاعی آلات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔

چین اور جاپان کے تعلقات حالیہ برسوں میں تائیوان کے مسئلے اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر کشیدہ رہے ہیں۔ بیجنگ نے جاپان کی جانب سے تائیوان کے بحران کی صورت میں ممکنہ فوجی مداخلت کے حوالے سے کیے گئے تبصرے پر بھی اعتراض کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، چین نے حال ہی میں کچھ جاپانی کمپنیوں کو برآمدی پابندیوں کی فہرست میں رکھا ہے- اس اقدام کو ٹوکیو نے ناقابل قبول اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا، ہندوستان اور جاپان دونوں نے کہا ہے کہ وہ اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو بڑھا کر سپلائی چین کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande