یوزرنیم فیچر پر حکومت نے ٹیلیگرام اور سگنل سے جواب طلب کیا ، آئی فون 18 پرو ڈیٹا لیک کی بھی جانچ
نئی دہلی، 4 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام اور سگنل کے یوزرنیم فیچر کے بارے میں دھوکہ دہی اور جعلی شناخت کے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے دونوں کمپنیوں کو نوٹس جاری کر کے اس فیچر
یوزرنیم فیچر پر حکومت نے ٹیلیگرام اور سگنل سے جواب طلب کیا ، آئی فون 18 پرو ڈیٹا لیک کی بھی جانچ


نئی دہلی، 4 جولائی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام اور سگنل کے یوزرنیم فیچر کے بارے میں دھوکہ دہی اور جعلی شناخت کے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے دونوں کمپنیوں کو نوٹس جاری کر کے اس فیچر سے متعلق حفاظتی انتظامات اور اس کی ضرورت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزارت نے ٹیلی گرام سے پوچھا ہے کہ اس کے یوزرنیم فیچر کو جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ سائبر خطرات کو روکنے کے لیے کمپنی نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ اسی طرح سگنل سے بھی اس معاملے میں تفصیلی معلومات طلب کی گئی ہیں۔

یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب مرکزی حکومت نے حال ہی میں میٹا سے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں واٹس ایپ کا نیا یوزرنیم فیچر فی الحال لانچ نہ کرے۔ حکومت نے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین دن کے اندر اس فیچر سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرے اور بات چیت مکمل ہونے تک اسے نافذ نہ کرے۔

واٹس ایپ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ یوزرنیم فیچر میں پہلے ہی ایسے حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں جو جعلی شناخت اور آن لائن دھوکہ دہی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنا موبائل نمبر شیئر کیے بغیر صرف منفرد یوزرنیم کی مدد سے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے۔

اس دوران، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے سیکریٹری ایس کرشنن نے بتایا کہ حکومت ایپل کے ابھی تک لانچ نہ ہونے والے آئی فون 18 پرو سے متعلق مبینہ ڈیٹا لیک کے معاملے کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاٹا الیکٹرانکس سے مبینہ طور پر چوری کیے گئے دستاویزات کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام متعلقہ حقائق کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande