
احمد آباد، 04 جولائی (ہ س): گجرات کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کئی ریاستوں میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم دارالاسلام گجرات جیشِ محمد سے وابستہ ایک مشتبہ گرپ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کارروائی میں آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ مبینہ طور پر سرحد پار موجود ہینڈلرز کے رابطے میں تھا اور ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے ایک نیٹ ورک تیار کر رہا تھا۔
اے ٹی ایس کے مطابق، اس کاروائی میں اس کی پانچ خصوصی ٹیموں نے گجرات کے بناس کانٹھا، نوساری اور پاٹن اضلاع کی پولیس اور مدھیہ پردیش کے دیواس پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کی۔ گرفتار ملزمان کو مزید پوچھ گچھ کے لیے اے ٹی ایس ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے نظریات اور تنظیم کے تشہیری مواد سے متاثر تھے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ وہ تنظیم کے لیے مقامی سطح پر لاجسٹک نیٹ ورک قائم کرنے، اس کی تشہیر کرنے اور مستقبل میں ممکنہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے بنیاد تیار کرنے میں مصروف تھے۔
تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق، اس معاملے کی خاص بات یہ ہے کہ اس گروپ نے اپنے ارکان کو مختلف شہروں میں پھیلا رکھا تھا اور آخری حملے کے حکم کا انتظار کرتے ہوئے آسان نقل و حرکت کے لیے غیر رجسٹرڈ جائیدادوں کا استعمال کیا۔ حکام کے مطابق، گروپ کو اپنے مقامی نیٹ ورک کے لیے ہینڈلرز کی جانب سے 3 لاکھ روپے موصول ہوئے تھے۔ ان پیسوں سے ایک پرانی گاڑی خریدی گئی، جسے جان بوجھ کر اپنے نام پر منتقل نہیں کرایا گیا تاکہ ان کی شناخت گاڑیوں کے ڈیٹا بیس اور ٹرانسپورٹ رجسٹری سے پوشیدہ رہے۔
حکام کے مطابق، ملزمان نے چھپنے کے لیے ادارہ جاتی مقامات کا بھی استعمال کیا۔ نیٹ ورک نے اپنے تین ارکان زکریا درانی، مفتی فوزان اسماعیل داووا اور محمد امین شیرا کو پاٹن کے جامعہ ابوالحسن مدرسہ میں رکھا تھا۔ جبکہ محمد عبدالرحمن ساودی کو نوساری کے جامعہ رحمانیہ مدرسہ میں تعینات کیا گیا تھا۔ اسی طرح احمد عبداللہ غازی والا، ابراہیم گھاگھا، مدثر غازی والا اور بلال درانی گھاگھا مبینہ طور پر مہسانہ، بناس کانٹھا اور دیواس میں نیٹ ورک کے مختلف حصوں کو سنبھال رہے تھے۔ تفتیش اور ضبط شدہ مواد سے یہ بھی سامنے آیا کہ تمام ملزمان مسعود اظہر کی تقاریر اور لٹریچر سے کافی متاثر تھے۔
حکام کے مطابق، مسعود اظہر پر بھارت میں ہونے والے کئی بڑے دہشت گرد حملوں کی سازش رچنے کے الزامات عائد ہیں، جن میں 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ، 2016 میں پٹھان کوٹ ایئر فورس بیس پر حملہ اور 2019 میں پلوامہ خودکش حملہ شامل ہیں۔ چھاپوں کے دوران اے ٹی ایس کو پاکستان میں شائع ہونے والی مسعود اظہر کی کتابیں بھی ملیں، اس کے علاوہ اردو میں ٹائپ کیے گئے آٹھ خطوط بھی برآمد ہوئے، جو مبینہ طور پر تنظیم میں شمولیت کے لیے مسعود اظہر کو لکھے گئے تھے۔
ڈی آئی جی سنیل جوشی نے بتایا کہ یہ سیل پاکستان میں موجود مبینہ ہینڈلرز عبداللہ اور محمد عمر کے مسلسل رابطے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور تمام آٹھ ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے) کی مختلف دفعات، جن میں دفعات 13، 17، 18، 38 اور 39 شامل ہیں، نیز بھارتی نیائے سنہتا کی دفعات 61 اور 148 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تمام آٹھ ملزمان کے خلاف یو اے پی اے اور بھارتی نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی بنیاد پر اس معاملے میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد