نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ کی وضاحت، ہندو راشٹر اور راج شاہی کے حق میں نہیں ہے نیپال حکومت
کاٹھمنڈو، 31 جولائی (ہ س)۔ نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت نہ تو ملک میں ہندو راشٹر کی بحالی کے حق میں ہے اور نہ ہی راج شاہی کی واپسی کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو راشٹر کا مطالبہ راج شاہی کی بحالی کے مسئلے سے
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ کی وضاحت، ہندو راشٹر اور راج شاہی کے حق میں نہیں ہے نیپال حکومت


کاٹھمنڈو، 31 جولائی (ہ س)۔ نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت نہ تو ملک میں ہندو راشٹر کی بحالی کے حق میں ہے اور نہ ہی راج شاہی کی واپسی کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو راشٹر کا مطالبہ راج شاہی کی بحالی کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں اس سمت میں پیش رفت مناسب نہیں ہوگی۔

جمعہ کو مدھیش خطے کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت وفاقی جمہوری نظام کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ ہے اور اپنی مدتِ حکومت کے دوران اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

اجلاس میں شریک جنتا سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری رام کمار شرما کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ہندو راشٹر قائم کرنے کی سمت میں نہیں بڑھ رہی۔ ان کے بقول، ترائی/مدھیش میں ہندو راشٹر کے مطالبے کا ایک الگ پس منظر ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں اس کا مفہوم مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندو راشٹر بحال کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ راج شاہی کی واپسی کا معاملہ بھی جڑ جاتا ہے، جس سے وفاقی نظام کمزور ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت اس کی حامی نہیں ہے۔

رام کمار شرما نے بتایا کہ مدھیش سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے وزیراعظم سے ہندو راشٹر کے بارے میں ان کا مؤقف دریافت کیا تھا، جس پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ موجودہ حالات میں یہ تصور مناسب نہیں اور حکومت وفاقی نظام کے تحفظ اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔راشٹریہ مکتی پارٹی نیپال کے صدر راجیندر مہتو نے بتایا کہ وزیراعظم نے اجلاس میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اور ان کی جماعت وفاقی جمہوری نظام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں جن افراد کو قصوروار قرار دیا جائے گا، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور متاثرین کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔

راجیندر مہتو کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ بعض عناصر فرقہ وارانہ فسادات بھڑکا کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ترائی/مدھیش میں پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون ضروری ہے۔اجلاس میں مدھیش کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے سنسری واقعے کے بعد وزیر داخلہ کی جانب سے کیے گئے معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتیں کئی معاہدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہیں، اس لیے موجودہ حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے اور عوام کو حقیقی تبدیلی کا احساس دلانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande