
غزہ سٹی/رام اللہ، 31 جولائی ( ہ س)۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کیے جانے کے باوجود غزہ پٹی اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ غزہ پٹی میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے تازہ حملے میں تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب پورے مغربی کنارے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے، جہاں اسرائیلی قبضے والے علاقوں میں اسرائیلی فوج کے تحفظ میں آبادکار مختلف دیہات پر دھاوے بول رہے ہیں۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی فوج احتجاج کرنے والے نہتے افراد پر آنسو گیس کے گولے بھی داغ رہی ہے۔
فلسطین کرانیکل اور قدس نیوز نیٹ ورک کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری تصویری رپورٹس کے مطابق، غزہ پٹی پر رات بھر اسرائیلی میزائل اور ڈرون حملے جاری رہے۔ جنوبی غزہ میں ان حملوں کے نتیجے میں تین فلسطینی شہری جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ سٹی اور خان یونس میں بھی متعدد عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کے حکام کے مطابق 11 اکتوبر 2025 سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,209 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ وسطی غزہ کے شہر میں البریج بلدیہ کے سامنے ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں زید محمد نوفل نامی شخص جاں بحق ہو گیا۔ اسی طرح مغربی خان یونس کے کالج علاقے کے قریب ایک خیمے پر اسرائیلی بمباری میں 20 سالہ عبداللہ ناصر البلاوی اور آٹھ سالہ رتیل محمود عبداللہ ہلاک ہو گئے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطی پناہ گزین کیمپ پر بھی حملے کیے۔ حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے الاہلی بپٹسٹ اسپتال کے سامنے واقع العالمی کمرشل بلڈنگ کے ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں کے سلسلے میں غزہ میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 73,335 ہو گئی ہے، جبکہ 174,052 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق 11 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں 1,209 فلسطینیوں کو ہلاک اور 3,943 کو زخمی کیا ہے۔ امدادی ٹیموں نے ان علاقوں سے 803 فلسطینیوں کی لاشیں بھی برآمد کی ہیں، جہاں شدید لڑائی کے باعث پہلے رسائی ممکن نہیں تھی۔
صحت کے حکام اور انسانی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کا تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ