
گوہاٹی، 31 جولائی (ہ س)۔
آسام میں تباہ کن سیلاب کی تلخ حقیقت شیو ساگرضلع میں سب سے زیادہ واضح طور پرنظرآرہی ہے۔ متعدد گاوں کی حالت ایسی ہوگئی ہے، جہاں پورے گاوں میں کمرتک مٹی کی گاد بھری ہوئی ہے۔ ایسی ہی صورتِ حال گھروں کے اندر کی بھی ہے۔ سیلاب میں کئی خاندانوں کے لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کا ابھی تک سرکاری طور پرکوئی ڈیٹا سامنے نہیں آیا ہے۔ ندیوں کا پانی اب اترنے لگا ہے جس کے باعث لوگ اب نئے سرے سے زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔
سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ بالائی آسام کے چاراضلاع شیو ساگر، چرائی دیو، جورہاٹ اور گولا گھاٹ ہیں، جہاں سرکاری اور نجی سطح پرراحتی اور بچاو کام جاری ہے۔ اس کے باوجود لوگ اپنے گھروں میں جا نہیں پارہے ہیں۔ سیلاب نے سب کچھ تباہ کردیا ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے 30 جولائی کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دھنسری ندی (نوملی گڑھ) خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ اس دوران شیو ساگر ضلع میں دو لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس طرح ریاست میں اموات کی کل تعداد 80 ہو گئی ہے۔
سیلاب سے موجودہ وقت میں کل آٹھ اضلاع ابھی بھی بری طرح متاثرہیں۔ ان میں گولا گھاٹ، شیوساگر، بشوناتھ، چرائی دیو، کامروپ (میٹرو)، جورہاٹ، دھیماجی اورنگاوں اضلاع شامل ہیں۔ ان اضلاع کے 21 ریونیو سرکلز کے کل 437 گاوں متاثر ہیں۔ ریاست کی کل 2,12,441 افراد ابھی بھی متاثر ہیں اور 17,198.09 ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے موجودہ وقت میں کل 62 راحتی کیمپ اور 50 راحت تقسیم مراکز سمیت کل 112 کیمپ فعال رکھے ہیں۔ راحتی کیمپوں میں 13,294 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، جبکہ راحت تقسیم مراکز پر 62,289 غیر کیمپ رہائشی راحت حاصل کر رہے ہیں۔
سیلاب میں راحت اور بچاو مہم میں ایس ڈی آر ایف، فوج/نیم فوجی دستے، این ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، ایئر فورس، پولیس، فائر بریگیڈ اور ہنگامی خدمات، سرکل آفس/مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس/تربیت یافتہ رضاکار اور فائر بریگیڈ کا شعبہ مصروف ہے۔ اس دوران سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریاستی حکومت نے کل 94 میڈیکل ٹیموں کو تعینات کیا۔ اس دوران 26 کشتیاں بھی راحتی کام میں لگی رہیں۔ سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑک، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن