دولت مشترکہ کھیل 2026: دلیپ گاوت نے سونے کا تمغہ جیتا، محمد باسل کو چاندی
گلاسگو، 30 جولائی (ہ س)۔ دولت مشترکہ کھیل 2026 میں ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس دستے نے بدھ کے روز تاریخ رقم کر دی۔ دلیپ گاوت اور محمد باسل نے مردوں کے 100 میٹر ٹی 47 مقابلے میں بالترتیب سونے اور چاندی کے تمغے جیت کر ہندوستان کو تاریخی ڈبل پوڈیم دلایا۔
دلیپ گاوت اور محمد باسل


گلاسگو، 30 جولائی (ہ س)۔ دولت مشترکہ کھیل 2026 میں ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس دستے نے بدھ کے روز تاریخ رقم کر دی۔ دلیپ گاوت اور محمد باسل نے مردوں کے 100 میٹر ٹی 47 مقابلے میں بالترتیب سونے اور چاندی کے تمغے جیت کر ہندوستان کو تاریخی ڈبل پوڈیم دلایا۔

دلیپ گاوت نے 10.71 سیکنڈ کا وقت نکالتے ہوئے سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ ان کی یہ کارکردگی کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ بھی بن گئی۔ وہیں محمد باسل نے 10.83 سیکنڈ کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ دونوں ہندوستانی کھلاڑیوں نے اس مقابلے میں اپنا اس سیزن کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

کامن ویلتھ گیمز 2026 میں ہندوستان کا یہ تیسرا سونے کا تمغہ ہے۔ اس سے پہلے ویٹ لفٹنگ میں میرابائی چانو اور پیرا شاٹ پُٹ میں شرمیلا دھنکر ہندوستان کو سونے کے تمغے دلا چکی ہیں۔

مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے قریب واقع چھوٹے سے گاوں تورن ڈونگری میں ایک عام کسان کے گھرانے میں پیدا ہونے والے دلیپ گاوت کی زندگی جدوجہد سے بھری رہی ہے۔ بچپن میں وہ اپنے والدین کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتے تھے۔

محض پانچ-چھ سال کی عمر میں درخت سے گرنے کی وجہ سے ان کے داہنے ہاتھ میں شدید چوٹ آ گئی۔ وقت پر مناسب علاج نہ ملنے سے چوٹ گہری ہو گئی اور کہنی کے نیچے سے ان کا ہاتھ کاٹنا پڑا۔

مخالف حالات کے باوجود دلیپ نے ہار نہیں مانی اور پیرا ایتھلیٹکس میں اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے اسی سال انڈیا اوپن اور نئی دہلی گراں پری میں سونے کے تمغے جیتے تھے۔ اس کے علاوہ 2022 ایشیائی پیرا کھیلوں میں مردوں کی 400 میٹر ٹی 47 مقابلے کا سونے کا تمغہ بھی ان کے نام ہے۔

گلاسگو میں 100 میٹر ٹی 47 مقابلے میں دلیپ اور محمد باسل کی شاندار کارکردگی ہندوستانی پیرا ایتھلیٹکس کے لیے ایک تاریخی کامیابی مانی جا رہی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے ایک ساتھ پوڈیم پر جگہ بنا کر ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا اور کامن ویلتھ گیمز میں ملک کے تمغوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande