شیو سینا (یو بی ٹی) ارکان پارلیمنٹ کے انضمام کے تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 4 اگست کو سماعت
شیو سینا (یو بی ٹی) ارکان پارلیمنٹ کے انضمام کے تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 4 اگست کو سماعت نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے شیو سینا (اُدھو گروپ) کے چھ ارکان پارلیمنٹ کا ایک ناتھ شندے گروپ میں انضمام
شیو سینا (یو بی ٹی) ارکان پارلیمنٹ کے انضمام کے تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 4 اگست کو سماعت


شیو سینا (یو بی ٹی) ارکان پارلیمنٹ کے انضمام کے تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 4 اگست کو سماعت

نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے شیو سینا (اُدھو گروپ) کے چھ ارکان پارلیمنٹ کا ایک ناتھ شندے گروپ میں انضمام کو منظوری دینے کے معاملے میں اب اگلی سماعت 4 اگست کو کرنے کا حکم دیا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران اُدھو گروپ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کپل سبل نے کہا کہ ان دنوں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے کہ رہنما ایک انتخابی نشان پر جیتتے ہیں اور بعد میں کسی دوسرے دل یا گروپ کے رکن ہونے کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں۔ اس سے پارلیمانی جمہوریت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

سماعت کے دوران سبل نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے کی وفات کے بعد اُدھو ٹھاکرے نے پارٹی کی کمان سنبھالی اور اسے آگے بڑھایا۔ 2018 میں اُدھو کی قیادت میں انتخابات لڑے گئے اور ایک ناتھ شندے 2019 میں اُدھو ٹھاکرے کی ہی حکومت میں وزیر بنے تھے۔ سبل نے کہا کہ اگر اُدھو گروپ کی عرضی پر وقت رہتے سماعت ہو گئی ہوتی تو شندے حکومت کا قیام ہی عمل میں نہ آتا۔ سبل نے کہا کہ بعد میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران کراس ووٹنگ ہوئی، جس سے پارٹی کو شبہ ہوا کہ ایک ناتھ شندے گروپ کسی الگ حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد اچانک 31 ارکانِ اسمبلی گوہاٹی چلے گئے۔ وہاں ان ارکانِ اسمبلی نے قرارداد منظور کر کے پارٹی کے اس وقت کے وہپ سنیل پربھو کو ہٹانے اور بھرت گوگاولے کو نیا وہپ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ سبل نے کہا کہ یہ قرارداد صرف انہی 31 ارکانِ اسمبلی نے منظور کی تھی، پوری پارٹی نے نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ خط قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو بھیجا گیا، جس کے بعد اسپیکر نے اسے گورنر کے پاس بھیج دیا۔ اس کے فوراً بعد گورنر نے اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا۔ اس وقت اُدھو ٹھاکرے ہی پارٹی سربراہ تھے، اس لیے ارکانِ اسمبلی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہی پوری سیاسی پارٹی ہیں۔ سبل نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا صرف لیجسلیچر پارٹی کے اراکین خود کو پوری پارٹی قرار دے سکتے ہیں؟ ایسا کرنا دل بدل قانون کی روح کے خلاف ہے۔

سپریم کورٹ نے 22 جولائی کو اُدھو گروپ کے چھ ارکان پارلیمنٹ کو ایک ناتھ شندے گروپ میں انضمام کی منظوری دینے کے لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے پر فوری روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے لوک سبھا کے دفتر کو نوٹس جاری کیا تھا۔ شیو سینا اُدھو گروپ کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا اسپیکر نے ان کی پارٹی کے چھ ارکان پارلیمنٹ کے دوسرے حریف گروپ میں انضمام کو منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک آئینی مسئلہ ہے۔ لوک سبھا اسپیکر نے 18 جولائی کو ہفتے کی رات میں اس انضمام کو منظوری دی۔ چھ ارکان پارلیمنٹ کے ضم ہونے کے بعد شندے گروپ کے پاس ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ اسپیکر کے اس فیصلے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں پارٹی کی کارروائی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande