
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے 2020 میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف چنڈی گڑھ میں اس وقت کے وزیر اعلی امریندر سنگھ کی رہائش گاہ پر احتجاج کے معاملہ میں پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے اس معاملہ میں درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھگونت مان، اے اے پی رہنماوں ہرپال سنگھ چیمہ، گرمیت سنگھ، میت ہائر، بلجندر کور، امن اروڑا اور دیگر ملزموں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عرضی یو ٹی چندی گڑھ انتظامیہ نے دائر کی ہے۔ سماعت کے دوران، چنڈی گڑھ انتظامیہ کی طرف سے پیش ہوئے اے ایس جی ایس وی راجو نے کہا کہ یہ غیر قانونی بھیڑ جتانے کا معاملہ ہے۔ وہاں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ایک قابل شناخت جرم قرار دیا گیا ہے، پھر بھی ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے میں غلطی کی ہے۔
اس سے قبل 21 جولائی کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بھگونت مان اور دیگر ملزموں کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے کہ انہوں نے بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے خلاف مظاہرین کو اکسایا تھا۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے بھی ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم رہنماو¿ں کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ ان ملزموں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 147, 149, 332, اور 352 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر کانسٹیبل منپریت کور کی شکایت پر درج کی گئی تھی۔
ہندوستان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی