طلبہ کو پی ایم اسپیشل اسکالرشپ اسکیم کے تحت آن لائن درخواستوں میں مسائل کا سامنا۔
جموں, 30 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (جے کے بوس) نے پی ایم اسپیشل اسکالرشپ اسکیم (پی ایم ایس ایس ایس) کے تحت آن لائن درخواستوں میں پیش آنے والے تصدیقی مسائل کے جلد از جلد حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ یقین دہانی اس وقت س
طلبہ کو پی ایم اسپیشل اسکالرشپ اسکیم کے تحت آن لائن درخواستوں میں مسائل کا سامنا۔


جموں, 30 جولائی (ہ س)۔

جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (جے کے بوس) نے پی ایم اسپیشل اسکالرشپ اسکیم (پی ایم ایس ایس ایس) کے تحت آن لائن درخواستوں میں پیش آنے والے تصدیقی مسائل کے جلد از جلد حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ یقین دہانی اس وقت سامنے آئی جب جموں صوبہ کے متعدد طلبہ نے شکایت کی کہ بارہویں جماعت کے دو سالہ امپروومنٹ امتحان 2025 میں حاصل کیے گئے نظرثانی شدہ نمبروں کی آن لائن ریکارڈ میں عدم دستیابی کے باعث ان کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں۔

متاثرہ طلبہ اور والدین کے مطابق امپروومنٹ امتحان میں نمبر بہتر ہونے کے باوجود پورٹل پر پرانا ریکارڈ ظاہر ہونے سے درخواستیں جمع نہیں ہو پا رہی تھیں، جبکہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ بھی جمعرات مقرر تھی، جس کے باعث طلبہ میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔

جے کے بوس کے ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر پروین سنگھ نے بتایا کہ بورڈ چیئرمین کی ہدایت پر نئی دہلی میں متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اب تک 200 سے 250 سے زائد ایسے معاملات حل کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر مسائل طلبہ یا والدین کے ناموں میں اصلاح، امپروومنٹ امتحان یا نظرثانی کے بعد نمبروں میں تبدیلی اور عملی امتحان کے نمبروں کے اندراج کے باعث پیدا ہوئے، کیونکہ پورٹل ابتدائی طور پر اپ لوڈ کیے گئے ریکارڈ کی بنیاد پر تصدیق کرتا ہے۔

ڈاکٹر پروین سنگھ نے کہا کہ جن طلبہ کے معاملات ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں وہ فوری طور پر جے کے بوس کے متعلقہ دفتر سے رابطہ کریں تاکہ ان کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق انجینئرنگ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کا عمل 15 اگست تک مکمل کیا جانا ہے، جس کے پیش نظر اس سال داخلوں کا شیڈول مختصر ہے، لہٰذا زیر التوا معاملات کا بروقت ازالہ ناگزیر ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande