
مہاراشٹر میں لینڈ ٹائٹلنگ ایکٹ پر جلد فیصلہ، ہر جائیداد مالک کو سرکاری پراپرٹی کارڈ ملے گا۔ دبئی اور سنگاپور کی طرز پر نیا نظام نافذ کرنے کی تیاری، ناگپور کے سرمائی اجلاس میں بل پیش کیے جانے کا امکان، چندر شیکھر باون کلےممبئی ، 30 جولائی (ہ س) مہاراشٹر میں جائیداد کی خرید و فروخت کو مزید شفاف، محفوظ اور تنازعات سے پاک بنانے کے لیے ریاستی حکومت دبئی اور سنگاپور کی طرز پر لینڈ ٹائٹلنگ ایکٹ نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ریاست کے وزیر مال چندر شیکھر باون کلے نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد ہر جائیداد مالک کو حکومت کی تصدیق شدہ پراپرٹی کارڈ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں آئندہ دسمبر میں ناگپور میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو مہاراشٹر ایسا قانون نافذ کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن جائے گی۔چندر شیکھر باون کلے تھانے ڈسٹرکٹ ہاؤسنگ فیڈریشن، رکن اسمبلی سنجے کیلکر اور تھانے سٹی سوسائٹی فورم کے اشتراک سے گڈکری رنگایتن میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی سنجے کیلکر، نرنجن داوکھرے، کسان کتھورے، مادھوی نائک، کمار ایلانی، وکرانت پاٹل، ضلع کلکٹر ڈاکٹر شری کرشن پانچال، ہاؤسنگ فیڈریشن کے صدر اور کارپوریٹر سیتا رام رانے، بی جے پی ضلع صدر سندیپ لیلے، ڈپٹی میئر کرشنا پاٹل، کارپوریٹر وکاس پاٹل، امت سریا اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔وزیر مال نے بتایا کہ محکمہ مال نے برطانوی دور کے متعدد قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے 65 سے زیادہ اصلاحی فیصلے کیے ہیں، جبکہ 98 تجاویز کو ریاستی کابینہ کی منظوری بھی مل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے لینڈ ٹائٹلنگ نظام کے تحت جائیداد کی ملکیت کے تمام پرانے انتقالات کے بجائے موجودہ مالک، اس کے قانونی وارثوں، جمابندی اور جائیداد کی مکمل تفصیلات پر مشتمل ایک ڈیجیٹل پراپرٹی کارڈ جاری کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت کی ضمانت والا یہ کارڈ ملک اور بیرون ملک ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کی طرح ایک قابل اعتماد قانونی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔چندر شیکھر باون کلے نے مزید بتایا کہ پہلے پیمائش، پھر رجسٹریشن کا اصول نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت زمین کی باقاعدہ پیمائش کے بغیر کسی بھی جائیداد کی خرید و فروخت یا رجسٹریشن ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہری علاقوں کی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ہر فلیٹ مالک کو الگ ورٹیکل پراپرٹی کارڈ بھی جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں ضرورت محسوس ہونے پر متعلقہ قوانین میں مزید ترامیم بھی کی جائیں گی۔وزیر مال نے کہا کہ محکمہ مال نے غیر زرعی زمین کے لیے این اے اجازت نامے کی شرط ختم کرنے، فریگمنٹیشن ایکٹ میں ترمیم، یکم جنوری 2011 سے پہلے کی غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے، سرکاری زمین پر منظور شدہ مستحقین کو رہائشی سہولت فراہم کرنے اور کلیان۔آسان گاؤں چوتھی ریلوے لائن، دہیسر۔بھائندر کوسٹل روڈ، میٹرو کار شیڈ، علاقائی ٹرانسپورٹ دفتر، مینگرووز کے تحفظ اور باپ گاؤں سبزی منڈی کے لیے زمین فراہم کرنے جیسے اہم فیصلے کیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پراپرٹی کارڈ اور سات بارہ اتارا میں دیگر حقوق کے اندراج کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ وراثت اور زمین کی ملکیت سے متعلق معاملات میں غیر ضروری سماعت کے لیے تحصیل اور حلقہ سطح کے ریونیو حکام کی جانب سے وارثوں اور زمین مالکان کو بار بار طلب کرنے کا طریقہ بھی ختم کیا جائے گا۔ چندر شیکھر باون کلے نے کہا کہ یو ایل سی ایکٹ اور شیوائی نگر مہاڈا کالونیوں سے متعلق زیر التوا معاملات پر بھی مثبت فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان اصلاحات سے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں، عام شہریوں اور زمین مالکان کو بڑی راحت ملے گی۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے