الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس تنازعہ پر جلد فیصلہ کرے، حریف گروپ کو مزید وقت نہ دے: ممتا بنرجی
کولکاتا، 30 جولائی (ہ س)۔ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس کے نام، انتخابی نشان اور تنظیمی کنٹرول کو لے کر جاری تنازعہ کی سماعت میں تیزی لائے۔ انہوں نے کہا کہ حریف گروپ کو مزید وقت نہیں دینا چاہئے کیونکہ
الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس تنازعہ پر جلد فیصلہ کرے، حریف گروپ کو مزید وقت نہ دے: ممتا بنرجی


کولکاتا، 30 جولائی (ہ س)۔

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس کے نام، انتخابی نشان اور تنظیمی کنٹرول کو لے کر جاری تنازعہ کی سماعت میں تیزی لائے۔ انہوں نے کہا کہ حریف گروپ کو مزید وقت نہیں دینا چاہئے کیونکہ اسے پہلے ہی کئی مواقع دیئے جا چکے ہیں۔

بدھ کو، ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کے سکریٹری اشونی کمار موہل کو خط لکھا، جس میں کہا گیا کہ ان کی قیادت والے دھڑے نے کمیشن کی ہدایت کے مطابق 6 جولائی کی آخری تاریخ کے اندر اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا ہے۔ جواب کی ایک کاپی قائد حزب اختلاف ریت برت بنرجی کو بھی ای میل اور اسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ بھیجی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن نے ریت برت بنرجی سے بھی 6 جولائی تک جواب طلب کیا تھا۔ بعد میں، 7 جولائی کو، آخری تاریخ کو بڑھا کر 10 جولائی تک کر دیا گیا، اور پھر، ریت برت بنرجی کی درخواست پر، 25 جولائی تک اضافی توسیع دی گئی۔ اس کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا انہوں نے کوئی جواب داخل کیا ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اگر حریف دھڑے نے 25 جولائی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے تو یہ مان لیا جائے کہ ان کے پاس 6 جولائی کے ان کے تمام دلائل اور دعووں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریف دھڑا اب 22 جون کی اپنی اصل درخواست سے آگے کوئی نیا کیس نہیں بنا سکتا۔

سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بار بار توسیع دینے سے حریف دھڑے کو اپنے حق میں نئے اور جھوٹے ثبوت تیار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی منصفانہ اور غیر جانب دارانہ مواقع کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے اور کسی بھی فریق کو ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔

ممتا بنرجی نے کمیشن پر زور دیا کہ یہ معاملہ مغربی بنگال کی سیاست پر گہرا اثر ڈالے گا۔ اس لیے مزید تاخیر کیے بغیر تحقیقات اور سماعت کو تیزی سے مکمل کرکے فیصلہ سنایا جائے۔ انہوں نے خط میں کہا کہ عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد برقرار رہنا چاہیے اور غیر ضروری تاخیر اس اعتما دکو کمزور کرتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande