

ایم پی حکومت کے 60 فیصد پیداوار خریدنے کے فیصلے کے بعد کسانوں کا احتجاج ختم
۔ ایم پی حکومت ہر مستحق کسان سے مونگ کی 60 فیصد خریداری کرے گی، سلاٹ بکنگ کی مدت میں بھی 10 دن کا اضافہ
بھوپال، 30 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں جاری کسانوں کے احتجاج کے درمیان ریاستی حکومت نے ہر مستحق کسان سے 60 فیصد تک مونگ کی خریداری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نرمداپورم، سیہور اور ہردا جیسے اضلاع میں تقریباً تین کوئنٹل فی ایکڑ خریداری کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سلاٹ بکنگ کی مدت 10 اگست تک بڑھا دی گئی ہے اور مونگ کی خریداری کی آخری تاریخ 20 اگست کر دی گئی ہے۔
حکومت اور کسان نمائندوں کے درمیان منترالیہ میں بدھ کی رات ہوئی میٹنگ کے بعد کسانوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔ حکومت اور کسان نمائندوں کے درمیان اتفاقِ رائے بننے کے بعد کسان اپنے اپنے گھروں کے لیے روانہ ہو گئے۔ انتظامیہ نے بسوں کے ذریعے کسانوں کو ان کی گاڑیوں تک پہنچایا۔ دیر رات تک احتجاج مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری شیلیندر سنگھ چوہان نے بتایا کہ کسانوں نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے روشن پورہ چوراہے سے کسانوں کو بسوں کے ذریعے ان کی گاڑیوں تک پہنچا کر روانہ کیا۔ بعد میں روشن پورہ چوراہا تقریباً خالی ہو گیا۔ بان گنگا کی طرف جانے والے راستے کو چھوڑ کر باقی راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے۔
وزیر زراعت ایندل سنگھ کنسانا نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایت پر بدھ کے روز کسانوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تشکیل دی گئی وزراء کی کمیٹی کی کسان نمائندوں کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ کسانوں کے وسیع تر مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے یہ اہم فیصلہ لیا ہے کہ اب ہر مستحق کسان سے اس کی مونگ کی پیداوار کا 25 فیصد نہیں، بلکہ 60 فیصد خریدا جائے گا، جو نرمداپورم، سیہور اور ہردا جیسے اضلاع میں تقریباً 3 کوئنٹل فی ایکڑ بنتا ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ کیا جائے گا اور کوشش رہے گی کہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کو اس کا فائدہ ملے۔
انہوں نے بتایا کہ کسانوں کی سہولت کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سلاٹ بکنگ کی مدت میں بھی 10 دن کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب کسان 30 جولائی کے بجائے 10 اگست تک سلاٹ بکنگ کر سکیں گے۔ اسی طرح خریداری کی آخری تاریخ بھی 10 اگست سے بڑھا کر 20 اگست کی جا رہی ہے۔
وزیرِ زراعت کنسانا نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت ہمیشہ کسانوں کے مفاد میں کام کرتی آئی ہے۔ ان داتا (کسان) ریاست کی معیشت اور خوشحالی کی بنیاد ہیں اور ان کی محنت سے پیدا ہونے والی فصل کی مناسب قیمت یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومت مکمل عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند کی جانب سے اس سال مونگ کی خریداری کے لیے مدھیہ پردیش کو 4.52 لاکھ میٹرک ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ حکومتِ ہند کی اسکیم کے تحت ریاست کی کل پیداوار کا زیادہ سے زیادہ 25 فیصد خریدے جانے کی گنجائش ہے۔ حکومت ہند کے اسی قانون کے تحت فیصلہ لیا گیا تھا کہ ریاست کے مونگ پیدا کرنے والے کسانوں سے ان کی پیداوار کا 25 فیصد کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریدا جائے گا۔
انہوں نے کسان بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلایا کہ مدھیہ پردیش حکومت ہمیشہ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ جہاں تک کھاد کی تقسیم کے لیے نافذ کی گئی ای-ٹوکن کے نظام سے متعلق شکایات اور عملی مسائل کا سوال ہے، یہ نظام ریاستی حکومت کی ایک اہم اصلاح ہے اور آنے والے وقت میں اس سے کسانوں کو کافی سہولت اور فائدہ ملے گا۔
وزیر زراعت نے بتایا کہ چونکہ یہ ایک نیا نظام ہے، اس لیے ابتدائی سطح پر سامنے آنے والے مسائل کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ایگریکلچر پروڈکشن کمشنر کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی ای-ٹوکن کے نظام سے جڑے تمام مسائل کا جائزہ لے کر ریاستی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ضروری اصلاحات فوری طور پر کی جائیں گی۔ تجاویز موصول ہونے اور اصلاحات ہونے تک ای-ٹوکن سے کھاد کی تقسیم کا نظام فوری طور پر ملتوی کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن