
جموں, 30 جولائی (ہ س)۔
لداخ کے تاریخی، آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 23 تاریخی مقامات کو ’محفوظ یادگار‘ قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر قدیم یادگاروں کے تحفظ کے قانون کے تحت باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔سرکاری بیان کے مطابق ان مقامات کو ان کی تاریخی، آثارِ قدیمہ اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ محفوظ قرار دیے گئے مقامات میں قدیم چٹانی نقوش (پیٹروگلفس)، بدھ مت کے سنگی مجسمے، غاریں، گپھائیں، قلعے اور محلات شامل ہیں، جو طویل عرصے سے خستہ حالی اور مختلف خطرات سے دوچار تھے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان تاریخی مقامات کی سائنسی بنیادوں پر بحالی، تحفظ اور دستاویز سازی ممکن ہو سکے گی، جبکہ ان پر ناجائز قبضوں اور نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی روک تھام بھی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ لداخ میں ثقافتی سیاحت، تحقیق اور عوامی بیداری کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے کہا کہ لداخ کی قدیم خانقاہیں، قلعے، غاریں اور چٹانی نقوش اس خطے کی تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے کی زندہ علامت ہیں۔ ان کا تحفظ آئندہ نسلوں کے لیے اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔محفوظ قرار دیے گئے 23 مقامات میں شرنوس کا پیٹروگلف سائٹ، شیہ میں میتریہ بدھ کی سنگی کندہ کاری، ٹنگموس گانگ قلعہ، سسپول کی قدیم غاریں، الچی، دومکھر، لیہدو اور مرگی کے پیٹروگلف مقامات، اسٹونگڈے گومپا، ہنڈر کی غاریں، ڈگر کے متعدد چٹانی نقوش، سموور قلعہ اور کرگل کے تاریخی آثار شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر