ایکسٹرانیٹ ٹیکنالوجیزکی معمولی اضافے کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں انٹری
نئی دہلی، 30 جولائی(ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں قائم آئی ٹی حل فراہم کرنے والے ایکسٹرانیٹ ٹیکنالوجیز کے حصص آج معمولی اضافے کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 127 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج اس کی لسٹنگ بی ایس ای پ
شیئر


نئی دہلی، 30 جولائی(ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں قائم آئی ٹی حل فراہم کرنے والے ایکسٹرانیٹ ٹیکنالوجیز کے حصص آج معمولی اضافے کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 127 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج اس کی لسٹنگ بی ایس ای پر 2.44فیصدپریمیمکے ساتھ130.10روپے کی سطح پر اور این ایس ای پر 4.72فیصدپریمیم کے ساتھ 136 روپے کی سطح پر ہوئی۔لسٹنگ کے بعدخریداری کے سپورٹ سے کمپنی کے حصص 2.44 روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ اسی طرح فروخت کے دباوپریہ حصص129.20 روپے کی سطح پر گر بھی گئے۔ 11:30 بجے تک کمپنی کے حصص129.20 روپے کی سطح پر کاروبار کر رہے تھے۔ اب تک کاروبار میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے فی حصص2.20روپے یعنی 1.73 فیصد کا فائدہ اٹھا لیاتھا۔

ایکسٹرینٹ ٹیکنالوجیز کا 166.80 کروڑ روپے کا آئی پی او 23 اور 27 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے خوب پذیرائی ملی، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 8.75 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 3.41 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 26.56 بار سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 8.75 بار سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے نئے حصص 1,31,34,000 جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کو نئے سسٹم اور ہارڈ ویئر خریدنے، پرانے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

ایکسٹرانیٹ ٹیکنالوجیز کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال2023تا2024 میں کمپنی کا خالص منافع 10.94 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال2024تا2025 میں بڑھ کر 30.03 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا خالص منافع 40.73 کروڑ روپے تھا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال2023تا2024 میں 233.26 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 276.53 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کی آمدنی 366.01 کروڑ روپے تھی۔

اس دوران کمپنی کے قرض میں اتار چڑھاو آیا۔ مالی سال2023-2024 کے اختتام پر کمپنی پر 41.19 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں کم ہو کر 39.24 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال2025تا2026 کے اختتام تک کمپنی پر 85.45 کروڑ روپے کا قرض تھا۔

اس دوران کمپنی کےرزرو اور سرپلس میں مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی کے رزرو اور سرپلس 31.71 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 87.47 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 96.40 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے تھے۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 38.78 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 95.49 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی وقت، یہ پچھلے مالی سال2025تا2026میں 136.01 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023-2024 میں 2 18.86 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025بڑھ کر 47.20 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی وقت، پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 63.18 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande