
نئی دہلی، 30 جولائی(ہ س)۔ پریسیجن انجینئرنگ کمپونینٹ بنانے والی کمپنی انڈو ایم آئی ایم کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کردیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 485 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، یہ بی ایس ای پر44.95 فیصدکے پریمیم کے ساتھ 703 روپے پر اور این ایس ای پر44.33 فیصد پریمیم کے ساتھ 700 روپے کی سطح پر درج ہوئے۔
لسٹنگ کے بعد خریداری کی وجہ سے کمپنی کے حصص تھوڑے ہی عرصے میں731.40 روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ تاہم بعد میں اس کی قیمت میں معمولی کمی آئی۔ کمپنی کے حصص دوپہر 12 بجے تک 729.55کی سطح پر تجارت کر رہے تھے۔ اس طرح، اب تک کی تجارت میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص244.55 یعنی50.42 فیصد کے حساب سےفائدہ ہوچکا تھا۔
انڈو ایم آئی ایم کا 3,811.21 کروڑ روپے کا آئی پی او 23 اور 27 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے خوب پذیرائی ملی، جس کے نتیجے میں 72.37 گنا سبسکرپشن ہوا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کو 204.47 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 50.65 بار سبسکرائب کیا گیا۔ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 6.69 بار سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ملازمین کے لیے مخصوص حصے کو 9.44 بار سبسکرائب کیا گیا تھا۔
اس آئی پی او کے تحت 1 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 7,86,00,300 حصص جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں 499.10 کروڑ روپے کے1,03,09,278 نئے شیئراور پیشکش برائے فروخت ونڈو کے ذریعے 3,311.21 کروڑ روپے کے 6,82,91,022حصص برائے فروخت شامل ہے۔ کمپنی آئی پی او میں تازہ حصص کی فروخت کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کو اپنی ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
انڈو ایم آئی ایم کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے جو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر ایس ای بی آئی کو پیش کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال2023-2024 میں کمپنی کا خالص منافع 283.73 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال میں بڑھ کر 423.73 کروڑ روپے ہو گیا۔ کمپنی نے پچھلے مالی سال میں 533.54 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی رسیدوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال میں 2,900.38 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 3,373.97 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025-2026میں کمپنی کی آمدنی 4,320.70 کروڑ روپے کی سطح پر تھی۔
اس دوران کمپنی کے قرض میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023-2024کے اختتام پر کمپنی پر 1,085.01 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 1,247.20 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 2025-2026کے اختتام تک کمپنی کا قرض کم ہو کر 1,090.49 کروڑ روپے رہ گیا تھا۔
اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-2024کے اختتام پر کمپنی کے رزرواور سرپلس 1,889.04 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 2,030.81 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال 2025-2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 2,573.46 کروڑ روپے تک پہنچ گئے تھے۔
اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 2,050.51 کروڑ روپے کی سطح پرتھی، جو کہ 2024تا2025 میں بڑھ کر 2,199.43 کروڑ روپے ہو گئی۔ یہ پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں 2,819.55 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن)2023-2024 میں 743.46 کروڑ روپے کی سطح پر تھی، جو 2024-2025بڑھ کر 932.60 کروڑ روپے کی سطح پرآ گئی۔ پچھلے مالی سال 2025-2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 1,070.92 کروڑ روپے کی سطح تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی