
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 2022 کے کوئمبٹور بم دھماکوں کی دہشت گردی کی فنڈنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں جمعرات کو چنئی، کوئمبٹور، حیدرآباد اور ممبئی کے 16 مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ دھماکے کے ملزم نے فرضی کووڈ-19 ویکسین سرٹیفکیٹ گھوٹالے اور کووائی عربی کالج کے نام پر چندہ اور فرضی سرمایہ کاری کے ذریعے رقم جمع کرکے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فنڈنگ کی اور انہیں مالی معاونت فراہم کی۔
ای ڈی نے کہا کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت یہ کارروائی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی مختلف ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی گئی تحقیقات کے تحت کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق 2022 میں کوئمبٹور میں سنگمیشور مندر کے قریب خودکش کار بم دھماکہ جمیشا مبین اور اس کے ساتھیوں نے انجام دیا تھا۔ یہ حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک موڈیفائیڈ ماروتی کار کا استعمال کرتے ہوئے کالعدم دہشت گرد تنظیم ائی ایس آئی ایس(داعش) سے متاثر ہوکر دہشت گردانہ حملے کے طور پر کیا گیا تھا۔
ای ڈی کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے دو بنیادی طریقوں کا استعمال کیا۔ سب سے پہلے، کووڈ -19 وبائی مرض کے دوران، انہوں نے ویکسین کے فرضی سرٹیفکیٹ بنانے کا ایک ریکیٹ چلایا، جس کے ذریعے بغیر ویکسین کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے لوگوں سے رقم وصول کی گئی۔
دوسرا، کوائی عربک کالج کے نام پر عطیات اور فرضی سرمایہ کاری سے رقم جمع کی گئی ۔ تحقیقات کے مطابق یہ ادارہ نوجوانوں کی بنیاد پرستی میں سرگرم عمل تھا۔
ای ڈی نے بتایا کہ بم دھماکوں کے معاملے میں 12 ملزمین بشمول خودکش بمبار جمیشا مبین نے کوائی عربی کالج میں آن لائن یا آف لائن تعلیم حاصل کی تھی۔ تحقیقات کے مطابق، کالج کے ڈائریکٹر، جمیل باشا نے ان نوجوانوں کی رہنمائی کی، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر سلفی-جہادی نظریات سے متاثر تھے اور داعش کی حمایت میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔ ای ڈی نے کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد