
پٹنہ،30،جولائی(ہ س)۔بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے دوران ووٹنگ کے درمیان بی جےپی اور جن سوراج کے حامی آمنے سامنے آگئے۔ کدوائی پوری اور پی این ٹی کالونی کے قریب بوتھوں پر دونوں فریقوں کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، پولیس کی موجودگی میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ اس کے بعد جائے وقوعہ پر سیکورٹی اور چوکسی بڑھا دی گئی۔کدوائی پوری علاقے میں بی جے پی اور جن سوراج کے حامیوں کے درمیان اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب دونوں فریق ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو گئے۔ پولیس کے سامنے ہاتھا پائی ہوئی۔ جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکاروں نے فریقین کو الگ کر کے صورتحال پر قابو پایا۔جن سوراج کے کارکنوں کا الزام ہے کہ سابق بی جے پی امیدوار بنٹی اپنے حامیوں کے ساتھ بوتھ پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکا جا رہا ہے اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جن سوراج کے حامیوں نے پی این ٹی کالونی میں بوتھ پر احتجاج بھی کیا۔ ان کا الزام ہے کہ کچھ لوگ ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے متاثر کر رہے تھے۔ کارکنوں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔بوتھ نمبر 101 اور 103 پر بھی ماحول کشیدہ رہا۔ جن سوراج کے حامیوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے حامی ووٹنگ کے عمل میں مداخلت کررہے ہیں۔ تاہم انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا۔دوسری طرف بی جے پی نے جن سوراج پر ووٹنگ میں دھاندلی کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری نتن ابھیشیک نے ریٹرننگ افسر کو خط لکھ کر ووٹروں کی شناخت کی سختی سے تصدیق کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ووٹر کی درست تصدیق ضروری ہے۔بانکی پور اسمبلی سیٹ پر ووٹنگ جاری ہے۔ نوادہ کے ایم پی وویک ٹھاکر نے اپنے والد ڈاکٹر سی پی ٹھاکرکے ساتھ ووٹ ڈالا۔ جے ڈی یو ایم ایل اے شیام رجک نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ بانکی پور میں کوئی لڑائی نہیں ہے اور الیکشن یک طرفہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan