
تہران، 3 جولائی (ہ س)۔ ایران میں اس سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں مارے گئے ملک کے سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز ہو گیا ہے۔ خامنہ ای کے تابوت کے قریب ایک خصوصی سرخ پرچم لگایا گیا ہے۔ مرحوم رہنما کی آخری رسومات شروع ہونے سے پہلے، اسلامی ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے نئے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی پہلی بار عوام کے سامنے نمودار ہوئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی کے کمانڈر احمد واحدی امریکا کے ساتھ جنگ کے بعد پہلی بار منظر عام پر آئے۔ انہیں آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کے قریب ان کے جنازے کے جلوس (جو 4 جولائی کو شروع ہوگا) سے ایک رات پہلے دیکھا گیا ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی تہران میں حسینی امام خمینی میں الوداعی تقریب کے لیے پہنچ گیا ہے۔ حسینی امام خمینی تہران میں واقع ایک اہم مذہبی اور سیاسی اجتماع گاہ ہے۔ علی خامنہ ای نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ملک کی قیادت کی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نئے سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی نے اپنے پیشرو محمد پاکپور کی جگہ لی، جو ایران پر ابتدائی امریکی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔ وحیدی نے جمعرات کی رات سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی۔
واحدی، جو 1970 کی دہائی کے اواخر میں آئی آر جی سی کے قیام کے بعد سے منسلک تھے، 1980 کی دہائی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے اور انٹیلی جنس اور فوجی محکموں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1988 سے 1997 تک قدس فورس کی قیادت کی۔ بعد میں واحدی نے یہ کردار ایران کے معروف کمانڈر قاسم سلیمانی کو سونپ دیا۔ سلیمانی 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
دسمبر 2025 میں سپریم لیڈر خامنہ ای نے واحدی کو آئی آر جی سی کا نائب سربراہ مقرر کیا۔ واحدی نے اہم سیاسی کردار بھی ادا کیے ہیں، سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں وزیر دفاع اور مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
امام رضا کے مزار کا مخصوص سرخ پرچم مرحوم سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت پر رکھا گیا ہے۔ جارج ٹاو¿ن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ اور اسلامی سیاست کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نادر ہاشمی کا خیال ہے کہ سرخ پرچم پیغمبر اسلام کے نواسے حسین ابن علی کی قربانی کی علامت ہے۔
وہ کربلا کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ہاشمی نے کہا کہ جنگ کربلا میں ان کی موت اور شہادت شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم اخلاقی حوالہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے سپریم لیڈر کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں موت کا موازنہ ان سے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی