منی پال ہاسپٹل کا آئی پی او پرائمری مارکیٹ میں لانچ ہوا، 31 جولائی تک لگا سکتے ہیںبولی
نئی دہلی، 29 جولائی (ہ س)۔ منی پال ہاسپٹل کے نام سے ملک کے کئی شہروں میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی منی پال ہیلتھ انٹرپرائزز کا 9,275.22 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 31 جولائی تک ب
New-IPO-Manipal-Health-Enter


نئی دہلی، 29 جولائی (ہ س)۔ منی پال ہاسپٹل کے نام سے ملک کے کئی شہروں میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی منی پال ہیلتھ انٹرپرائزز کا 9,275.22 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 31 جولائی تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 3 اگست کو شیئروں کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص 4 اگست کو ڈیمیٹ اکاو¿نٹ میں کریڈٹ کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص بی ایس ای اور این ایس ای پر 5 اگست کو لسٹ ہو سکتے ہیں۔

اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 560 روپے سے لے کر 590 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ مقرر کیا گیا ہے، جس میں لاٹ سائز25 شیئر کاہے۔ خوردہ سرمایہ کار اس آئی پی او میں کم از کم 25 شیئروں کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,750 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کار 1,91,750 روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 325 حصص کی زیادہ سے زیادہ 13 لاٹ کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت 2روپے کی فیس ویلو والے کل 15,72,07,054 کروڑ حصص جاری کئے ر ہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 8,000 کروڑ روپے مالیت کے 13,55,93,220 نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 1,275 کروڑ روپے مالیت کے 2,16,13,834 حصص آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔

آئی پی او کا کم از کم 75فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی ) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 10فیصد اور 15فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں ( این آئی آئی ) کے لیے زیادہ سے زیادہمختص ہے۔ اس ایشو کے لیے کوٹک مہندرا کیپٹل کمپنی لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ مینیجر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

منی پال ہیلتھ انٹرپرائزز کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس دائر کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مضبوط رہی ہے۔ تاہم کمپنی کے خالص منافع میں اتار چڑھاو¿ آتا رہا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں، کمپنی کا خالص منافع 533.20 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 1,081.67 کروڑ روپے ہو گیا۔ تاہم، گزشتہ مالی سال 2025-26 میں، کمپنی کا خالص منافع کم ہو کر 916.52 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں، اس نے 6,265.17 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 8,362.79 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025-26 میں، کمپنی نے 10,520.52 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی تھی۔

اس دوران کمپنی کے قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر، کمپنی پر 3,943.98 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 4,766.83 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، کمپنی کے قرض کا بوجھ بڑھ کر 10,553.43 کروڑ روپے ہو گیا۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس 3,953.59 کروڑروپے تھے، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 5,788.60 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس 8,204.96 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔

اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ 4,029.22 کروڑ روپے تھا اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 5,865.66 کروڑ روپے ہو گیا۔ مالی سال 2025-26 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 8,440.92 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے 2023-24 میں 1,776.60 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 2,247.07 کروڑروپے کی سطح پر آگیا۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 2,795.94 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande