وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا ریاست گیر احتجاج، وزیر تعلیم نارا لوکیش کے استعفیٰ کا مطالبہ
امراوتی، 28 جولائی (ہ س)۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے منگل کو آندھرا پردیش کے مختلف اضلاع میں ریاستی وزیر تعلیم نارا لوکیش کے استعفیٰ اور ڈی ایس اے سی -2025 اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں ک
YSRCP-PROTEST-DEMAND-NARA-LOKESH-RESIGNATION-CBI


امراوتی، 28 جولائی (ہ س)۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے منگل کو آندھرا پردیش کے مختلف اضلاع میں ریاستی وزیر تعلیم نارا لوکیش کے استعفیٰ اور ڈی ایس اے سی -2025 اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

پارٹی کے یوتھ اور اسٹوڈنٹ ونگ کی قیادت میں یہ احتجاجی مظاہرے ریاست بھر کے تمام ضلع ہیڈکوارٹرز اور کئی اسمبلی حلقوں میں ہوئے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ’میگا ڈی ایس اے سی“ کے نام سے ہوئے اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی منصفانہ سی بی آئی جانچ کرائی جائے اور وزیر تعلیم نارا لوکیش کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے ۔

وائی ایس آر سی پی کی سینئر لیڈر آر کے روجا نے الزام عائد کیا کہ ڈی ایس اے سی امیدواروں کے مسلسل احتجاج اور سی بی آئی تحقیقات کے مطالبات کے باوجود تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) زیرقیادت ریاستی حکومت اس مسئلے کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسپورٹس کوٹہ سمیت بھرتی کے عمل سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے نئے معاملے مسلسل سامنے آرہے ہیں اور کئی متاثرہ امیدواروں نے عدالت سے رجوع بھی کیا ہے۔

روجا نے کہا کہ وائی ایس آر سی پی صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی گزشتہ دو ماہ سے بارہا اس مسئلہ کو اٹھا رہے ہیں لیکن وزیر تعلیم کی جانب سے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح نیٹ تنازعہ کے دوران مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری لینے کے مطالبات کئے گئے تھے، اسی طرح نارا لوکیش کو بھی استعفیٰ دے کر ڈی ایس اے سی -2025 معاملے میں سی بی آئی تحقیقات کا سامنا کرنا چاہئے۔

سابق وزیر کے گووردھن ریڈی نے بھی ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ سرخیوں میں رہا ”میگا ڈی ایس اے سی “ اب ڈگا(دھوکہ دہی ) ڈی ایس اے سی “ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے مختلف سرکاری احکامات اور مبینہ بے ضابطگیوں کے ذریعے بھرتی کے عمل میں ہیرا پھیری کرکے بے روزگار نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے۔

تاہم، ان الزامات پر ریاستی حکومت یا وزیر تعلیم نارا لوکیش کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande