
جموں, 28 جولائی (ہ س): جموں شہر میں نالوں کے کنارے رہنے والے مکینوں میں حالیہ بارش کے بعد تشویش بڑھ گئی ہے۔ نالوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے 25 کروڑ 85 لاکھ 77 ہزار روپے کی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم مسلسل بارش کے باعث بیشتر مقامات پر کام روک دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو سیلابی صورتحال اور پانی جمع ہونے کے خطرات لاحق ہیں۔حکام کے مطابق شہر میں بڑھتی آبادی اور غیر قانونی تجاوزات کے باعث کئی نالے اپنی اصل چوڑائی کھو چکے ہیں۔
جسکے نتیجے میں معمولی بارش کے دوران بھی نالے بھر جاتے ہیں اور گندا پانی رہائشی علاقوں اور گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے ہر سال لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ جموں میونسپل کارپوریشن کے تحت اربن انوائرمنٹل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو نالوں کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بعض مقامات پر کام شروع کیا گیا تھا، تاہم مانسون کے دوران نالوں کے کناروں کی کھدائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے فی الحال تعمیراتی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارش تھمنے کے فوراً بعد تمام منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کیا جائے گا۔جن نالوں کی تعمیر و مرمت کے لیے فنڈ منظور کیے گئے ہیں ان میں گریٹر کیلاش کے جلو چک نالے، تریکوٹہ نگر سیکٹر-5، لکشمی نگر، درگا نگر و کبیر نگر کالونی، مزدور بستی، کرشنا نگر اور حمزہ کالونی بھٹنڈی کے نالے شامل ہیں۔
مقامی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بارش رکتے ہی تعمیراتی کام تیز کیا جائے تاکہ مستقبل میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ نالوں پر تجاوزات کے خاتمے اور بروقت صفائی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔یو ای ای ڈی کے ایگزیکٹو انجینئر اشونی کھجوریا نے کہا کہ متعدد نالوں پر کام شروع کیا گیا تھا، مگر موسلادھار بارش کی وجہ سے اسے عارضی طور پر روکنا پڑا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موسم بہتر ہوتے ہی ٹھیکیداروں کو کام مکمل کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر