
حیدرآباد ،28 جولائی (ہ س)۔
نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ خاتون نے حیدرآباد میں قیام کے دوران جنسی ہراسانی اور نازیبا سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پرمقدمہ درج کرکےملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔ شکایت کے مطابق خاتون 5 مارچ سے 23 مارچ کے درمیان ہندوستان کے دورے پر آئی تھی اوراپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ کونڈہ پور میں قیام پذیرتھی۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے اس دوران کئی مرتبہ ان کے بوائے فرینڈ کی غیرموجودگی میں ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیااورانہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔۔
خاتون کے مطابق 17 مارچ کو جب وہ گھر میں اکیلی تھیں، ملزم مبینہ طور پر نیم برہنہ حالت میں وہاں پہنچااوران کے ساتھ نامناسب انداز میں چھوا۔ ملزم نے مبینہ طور پر یہ بھی کہاکہ اس طرح کا سلوک اس کا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد کرے گا۔ شکایت کے مطابق خاتون کے بوائے فرینڈ کے گھر واپس آنے کے بعد وہ مزید جنسی زیادتی سے بچ گئیں۔ نیدرلینڈزواپس پہنچنے کے بعد خاتون نے مبینہ واقعہ کے بارے میں اپنے بوائے فرینڈ کو بتایا۔ انہوں نے اس معاملے کی اطلاع ڈچ سفارتخانے کو بھی دی اور 22 جولائی کوحیدرآبادواپس آکرپولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی۔
خاتون کی شکایت کی بنیاد پر گچی باؤلی پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 74، 75، 78 اور 79 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آدتیہ آنند کے طور پر ہوئی ہے، جو ریاست بہار سے تعلق رکھنے والا سافٹ ویئر انجینئر ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے، تاہم وہ فی الحال مفرور بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر تلاش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق