
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ ملک بھر کی نظریں آج پارلیمنٹ پر مرکوز ہیں۔ کئی دنوں سے جاری تعطل ختم ہونے کے بعد امکان ہے کہ لوک سبھا میں امتحانی پرچہ لیک کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل لوک پریکشا ترمیمی بل، 2026 پر بحث کا آغاز ہوگا۔ ذرائع کے مطابق لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی پہل پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس بل پر بحث کرانے پر متفق ہو گئی ہیں۔
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جاری ہے۔ اب تک دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے طلبہ تحریک کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی کی۔ جنتر منتر پر 36 روز تک جاری احتجاج کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ حکومت نے امتحانات اور پرچہ لیک روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں نندن نیلیکنی کی قیادت میں ایک ٹاسک فورس کی تشکیل بھی شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پرچہ لیک کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ مارچ کے دوران 20 جولائی کو پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام ویڈیو کے ذریعے مظاہرین سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ’فرینڈز‘ کہہ کر مخاطب کیا اور یقین دلایا کہ حکومت ان کے خدشات سے پوری طرح واقف ہے اور ان کے مسائل کے حوالے سے حساس ہے۔
پیر کے روز اپوزیشن نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں طلبہ پر پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال کا معاملہ اٹھایا اور دیگر تمام کارروائیاں روک کر پہلے اس پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا میں کانگریس نے وزیر اعظم سے معافی اور مرکزی وزیر داخلہ کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے ایوان میں بل پیش کیا۔
اپوزیشن نے بل پیش کرنے کے لیے مقررہ ایک گھنٹے کے دوران 92 ترامیمی تجاویز پیش کیں، تاہم اس پر بحث کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔ دن بھر کارروائی معطل رہنے کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رججو نے خبردار کیا کہ اگر بحث نہ ہوئی تو حکومت بل کو مباحثے کے بغیر بھی منظور کرا سکتی ہے۔ بعد ازاں اسپیکر اوم برلا نے تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کر کے تعطل ختم کرنے کی کوشش کی۔ آج لوک سبھا میں امتحانی اصلاحات پر بحث کے لیے چھ گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan