
ایل جی نے لداخ میں مزید 102 گاوں کو آرگینک سرٹیفکیٹ جاری کیے
لداخ، 28 جولائی (ہ س)۔ لداخ میں نامیاتی (آرگینک) کاشتکاری کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے مزید 102 گاوں کو آرگینک سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں، جس کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مکمل طور پر نامیاتی قرار دیے گئے گاوں کی تعداد بڑھ کر 207 ہو گئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کرگل، دراس، زنسکار اور شام علاقوں کے 102 گاوں کے نمائندوں کو آرگینک سرٹیفکیٹ پیش کیے۔ ان گاوں کے کسانوں نے کیمیائی کھادوں اور زرعی زہروں کا استعمال مکمل طور پر ترک کرکے نامیاتی کاشتکاری اختیار کی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر کسانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت لداخ میں پائیدار زرعی نظام کے فروغ کی نئی مثال قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں لداخ ملک کے لیے مکمل نامیاتی زراعت کا ایک مثالی ماڈل بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نامیاتی کاشتکاری نہ صرف ہمالیائی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام، مٹی اور آبی وسائل کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگی بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست زرعی نظام کو بھی فروغ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرگینک ویلیو چین کو مضبوط بنا کر لداخ کو ملک کا مثالی آرگینک مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔
واضح رہے کہ آرگینک سرٹیفکیشن مرکزی حکومت کی پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا کے تحت قومی پائیدار زرعی مشن کے کلسٹر پر مبنی ماڈل اور پارٹیسپیٹری گارنٹی سسٹم کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو کیمیکل سے پاک کاشتکاری، نامیاتی کھادوں کی فراہمی اور زرعی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے مالی معاونت بھی دی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر