
واشنگٹن/تہران، 28 جولائی (ہ س)۔
امریکہ اورایران کی ضد کی وجہ سے بین الاقوامی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے کھولتے پانی سے جھلس رہے پورے مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) کو راحت کی خبر مل سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کی تہران کے ساتھ ’’بہت دوستانہ بات چیت‘‘ ہورہی ہے۔ مگر انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ طویل بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہوجلد ہو۔ اس پر ایران نے کہا کہ امریکہ جنگ سے باہرنکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے تڑپ رہا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں ایران احتیاط سے نپے تلے اور عملی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ امن بحال ہو لیکن امریکہ کی من مانی شرائط پر نہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہی گئی یہ شاید سب سے اہم بات ہے۔ ایران ملا جلا اور دو طرفہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ تہران مستقبل میں تصادم کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران کی فوج کے سربراہ نے بھی یہی بات دہرائی ہے۔ ایران یہ بھی کہہ رہا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے نہ تو مکمل طور پر کھلے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر بند، بلکہ وہ تھوڑے سے کھلے ہیں۔ دوسری طرف، امریکہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران ضد پر اڑا رہا تو اس کے خلاف سخت فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس موجود ہے۔
اس دوران اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔ ان کی ٹرمپ سے ملاقات کی توقع ہے۔ اس ملاقات میں ایران کے ساتھ جنگ کا معاملہ سب سے اہم ہو سکتا ہے۔ وہیں، سعودی عرب نے عراق میں ایران حامی گروہوں کے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ ان گروہوں نے ریاض اور مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن