
واشنگٹن، 28 جولائی(ہ س)۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں سزائے موت پانے والے دو قیدیوں کو منگل کے روز چند گھنٹوں کے وقفے سے موت کی سزا دی جائے گی۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایک ہی دن میں دو افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق جیمز ڈکٹ کو منگل کی دوپہر سزائے موت دی جانی ہے۔ انہیں 1987 میں 11 سالہ ٹریسا میک ایبے کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے سزائے موت کا منتظر تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیتھولک پادری فادر ڈسٹن فیڈن گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فلوریڈا میں سزائے موت کے قیدیوں سے ملاقات کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’اب مجھے سزائے موت کے وارنٹ جاری ہونے کی تعداد پر حیرت نہیں ہوتی، لیکن یہ انتہائی خوفناک ہے کہ صرف چھ گھنٹوں کے اندر دو افراد کو سزائے موت دی جائے گی۔’ فادر فیڈن گزشتہ چند دنوں سے جیمز ڈکٹ کی روحانی رہنمائی بھی کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جیمز ڈکٹ کو سزائے موت دیے جانے کے چند گھنٹے بعد ڈومینک اوچیو کون کی سزا پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔ 80 سالہ اوچیو کون امریکہ میں سزائے موت پانے والے معمر ترین افراد میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہیں 1987 میں اپنی سابقہ محبوبہ کے والدین ریمنڈ اور مارتھا آرٹزنر کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق دونوں قیدیوں کو زہریلا انجیکشن دے کر سزائے موت دی جائے گی اور اس عمل کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں 2025 کے دوران 19 قیدیوں کو سزائے موت دی جا چکی تھی، جبکہ 2026 میں اب تک 10 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ جیمز ڈکٹ اور ڈومینک اوچیو کون دونوں کو جیوری پہلے ہی مجرم قرار دے چکی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan