
بی آر ایس کا حیڈرا کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہحیدرآباد ،28 جولائی (ہ س)۔
بی آرایس کے قائدین نے کانگریس حکومت پرہائی کورٹ کی طرف سے حیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کو ہٹانے سے متعلق دئیے گئے احکامات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کے آغاز سے لے کراب تک کی کیا سرگرمیاں انجام دی گئی ۔اس کے بارے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بی آرایس ایل پی کے وہپ کے پی وویکا ننداورایم ایل سی ڈی شراون نے حکومت پر بلڈوزر نظام چلانے کا الزام لگایا اوراحتساب کا مطالبہ کیا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اسے غریبوں کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ کے ایک برسر عہدہ جج سے حیڈرا کے کام کاج اور مبینہ بے ضابطگیوں کی جامع انکوائری کرائی جائے۔ وویکا نند نے کہا کہ اس فیصلے نے وزیراعلی اے ریونت ریڈی کے وزیر میونسپل ایڈمنسٹریشن کے طور پرجاری رہنے پر سوالات اٹھائے ہیں،جبکہ یہ محکمہ سی ایم کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ یہ شعبہ انتخابی کارروائی کا ایک آلہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے عوامی بھلائی سے زیادہ انہیں نقصان پہنچایا۔ انہوں نے زوردے کر کہا کہ محض کمشنر کو تبدیل کرنے سے صورتحال نہیں بدلے گی جب تک حکومت کا نقطہ نظر تبدیل نہیں ہوتا۔ انہوں نے بی آر ایس کے صدراور سابق وزیراعلی کے چندر شیکھرراؤ کے وعدے کو دہرایاکہ اگر پارٹی اقتدار میں واپس آتی ہے توحیڈراکوختم کردیں گے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیاکہ بااثرافراد کی مبینہ غیرقانونی تعمیرات کارروائی سے کیوں بچ گئی ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے مشاہدات نے حیڈرا کے کام کاج کو بے نقاب کیا ہے اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام عہدیداروں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سختی سے کام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے یاد دلایا حکومت نے متعدد مواقع پر عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا اور خبردار کیا کہ اقتدار مستقل نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق