اے ایم یو کے طلبہ نے سنگاپور میں منعقدہ باوقار ایشیائی انڈرگریجویٹ سمپوزیم میں ہندوستان کی نمائندگی کی
اے ایم یو کے طلبہ نے سنگاپور میں منعقدہ باوقار ایشیائی انڈرگریجویٹ سمپوزیم میں ہندوستان کی نمائندگی کی علی گڑھ، 28 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے 8 طلبہ نے نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور اور آسیان یونیورسٹی نیٹ ورک کے اشتراک سے من
سنگاپور کانفرنس


اے ایم یو کے طلبہ نے سنگاپور میں منعقدہ باوقار ایشیائی انڈرگریجویٹ سمپوزیم میں ہندوستان کی نمائندگی کی

علی گڑھ، 28 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے 8 طلبہ نے نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور اور آسیان یونیورسٹی نیٹ ورک کے اشتراک سے منعقدہ ایشیائی انڈرگریجویٹ سمپوزیم 2026 میں یونیورسٹی اور ملک کی نمائندگی کی۔ اس بین الاقوامی سمپوزیم میں ایشیا کی ممتاز جامعات سے تقریباً 300 انڈرگریجویٹ مندوبین نے شرکت کی، جن میں ہندوستان، سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا اور چین شامل تھے۔ ‘‘کمیونٹیز اِن ایکشن’’ موضوع کے تحت منعقدہ اس سمپوزیم میں تبادلہ خیال اور بین ثقافتی روابط کے ذریعہ شرکاء نے پائیداری، ثقافتی ورثے کے تحفظ، شمولیت اور کمیونٹی کے استحکام سے متعلق اختراعی حل تیار کیے۔

اے ایم یو کے وفد میں عبداللہ زیدی اور محمد امان (بی ٹیک، مصنوعی ذہانت)، سید منیر حسین کاظمی (بی ٹیک، کمپیوٹر سائنس)، رتیش شرما (بی ٹیک، آٹوموبائل انجینئرنگ)، مریم ہاشمی اور محمد قاسم (بی ایس سی، شماریات)، انس پوکّوڈن (بی اے، عمرانیات) اور ورشا ماتھر (بی اے، انگریزی) شامل تھے۔ اے ایم یو کے لیے ایک نمایاں دستیابی یہ رہی کہ سمپوزیم میں 30 عمدہ ترین پروجیکٹ تجاویز کے لیے شارٹ لسٹ ہونے والی صرف تین ہندوستانی ٹیموں میں سے دو ٹیمیں اے ایم یو کے طلبہ کی تھیں۔

‘‘سیف اسٹریز’’ کے عنوان سے پہلے پروجیکٹ کی قیادت رتیش شرما نے کی۔ ان کی ٹیم میں عبداللہ زیدی، مریم ہاشمی اور ورشا ماتھر شامل تھے۔ اس پروجیکٹ میں مویشیوں اور گاڑیوں کے درمیان ہونے والے تصادم کو کم کرنے کے لیے کمیونٹی کی شمولیت پر مبنی حکمت عملی پیش کی گئی۔ دوسرے پروجیکٹ کا عنوان تھا‘‘انویشا’’، جس کی قیادت محمد امان نے کی، جبکہ انس پوکّوڈن اور محمد قاسم ان کے ساتھ شریک تھے۔ اس پروجیکٹ میں اتر پردیش کے روایتی سانجھی فن کے تحفظ کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پیش کیا گیا، جو فنکاروں، مقامی برادریوں، غیر سرکاری تنظیموں اور نوجوان رضاکاروں کو باہم مربوط کرتا ہے۔ سید منیر حسین کاظمی نے ایک دوسری ٹیم میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کی تجویز سمپوزیم کی اختتامی تقریب میں پیش کی گئی۔

‘‘سیف اسٹریز’’ اور ‘‘انویشا’’ دونوں پروجیکٹ مزید جانچ کے اگلے مرحلے کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔ شارٹ لسٹ کی گئی ٹیمیں جولائی کے اختتام تک اپنی تفصیلی تجاویز جمع کرائیں گی، جس کے بعد زیادہ سے زیادہ 15 پروجیکٹس کو اپنے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے فی پروجیکٹ پانچ ہزارسنگاپوری ڈالر کی گرانٹ عطا کی جائے گی۔ اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے اپنی اختراعی سوچ اور سماجی وابستگی کے ذریعے یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں شناخت دلائی ہے۔

ڈی ایس ڈبلیو اور پروگرام کے کوآرڈنیٹر پروفیسر ایم اطہر انصاری نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور پروگرام کے دوران مہمان نوازی اور رہنمائی فراہم کرنے پر سنگاپور میں اے ایم یو کے سابق طلبہ کی انجمن بالخصوص جناب جارج ابراہم اور جناب سید ضیاء حیدر کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande