
ریاض/صنعائ، 25 جولائی (ہ س)۔ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے متعلق تجارتی جہازوں پر حملوں اور سمندری کشیدگی کے درمیان سعودی قیادت والے عسکری اتحاد نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول صوبہ الحدیدہ میں متعدد فوجی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا جنہیں تجارتی جہازوں کو دھمکانے اور سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
روسی بین الاقوامی خبر رساں ٹیلی ویژن نیٹ ورک آر ٹی (روسیا ٹوڈے) اور ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق انجام دی گئی اور الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ الحدیدہ، رأس عیسیٰ اور الصلیف سمیت یمن کی تمام بڑی بندرگاہیں سمندری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب حوثی گروپ کے ٹیلی ویژن چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں صوبہ الحدیدہ کی ٹیلی مواصلاتی تنصیبات اور بحیرہ احمر میں واقع کمران جزیرے کو نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کے مطابق ان حملوں میں ایک خاتون زخمی ہوئی، جبکہ اس کے سیاسی ونگ نے کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جواب مزید سخت ردعمل سے دے گا۔“
حملوں کے کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب کے صنعتی شہر جازان پر حوثیوں کے جوابی حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب میں آگ لگ گئی۔ اس سے قبل حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسی ہفتے سعودی ملکیت کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی حکام نے تصدیق کی کہ ایک ٹینکر میں آگ لگی، جبکہ دوسرے جہاز کو معمولی نقصان پہنچا۔
حالیہ دنوں میں حوثی گروپ نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والے سعودی عرب سے متعلق جہازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یمن پر جاری ”محاصرے“ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ اس کے بعد سعودی قیادت والے اتحاد نے سمندری سلامتی یقینی بنانے اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا۔یمن میں تنازع 2014 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاءپر قبضہ کر لیا تھا۔ 2015 میں سعودی عرب نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ طویل عرصے سے جاری اس جنگ نے یمن کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
غزہ جنگ کے آغاز کے بعد 2023 سے حوثیوں نے اسرائیل اور اس سے متعلق جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے تھے، جنہیں انہوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔ تاہم مئی 2025 میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے بعد ان حملوں میں کچھ عرصے کے لیے کمی آ گئی تھی۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف ”سخت فوجی کارروائی“ کی وارننگ دیتے ہوئے انہیں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan