خیبر پختونخوا کے ٹینک میں دہشت گردانہ حملے میں 14 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق، 12 حملہ آور بھی ہلاک
اسلام آباد، 25 جولائی (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹینک میں ایک مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پرہوئے دہشت گردانہ حملے میں 14 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطاب
علامتی تصویر


اسلام آباد، 25 جولائی (ہ س)۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹینک میں ایک مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پرہوئے دہشت گردانہ حملے میں 14 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو مار گرایا۔

آئی ایس پی آر کے حوالے سے جیو نیوز نے بتایا کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی رات دہشت گردوں نے چیک پوسٹ کا سیکورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کر کے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد بھاگتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے 12 حملہ آوروں کو مار گرایا گیا۔ فوج نے بتایا کہ حملہ ناکام ہونے کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دیا۔ اس شدید دھماکے میں چیک پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا اور 15 افراد کی جان چلی گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں فوج کے 12 جوان، 2 پولیس اہلکاراورمحکمۂ جنگلات کے ایک سابق سرکاری اہلکار شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ فوج نے اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی مخالف مہم مسلسل جاری رکھیں گے۔ حملے کے بعد پاکستان کے صدرآصف علی زرداری اوروزیراعظم شہباز شریف نے اس کی سخت مذمت کی۔ دونوں رہنماوں نے شہید سیکورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور آپریشن میں 12 دہشت گردوں کو مار گرانے پر سیکورٹی فورسز کی ستائش کی۔ پاکستان میں سال 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں لوٹنے کے بعد سے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ واقعات میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں حکومتِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مسلسل مہم چلا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande