گوگل پر یورپی یونین کے جرمانے پر ٹرمپ برہم، تجارتی تحقیقات اور نئے ٹیرف کی دھمکی
واشنگٹن، 25 جولائی (ہ س)۔یورپی یونین (ای یو) کی جانب سے گوگل پر تقریباً ایک ارب ڈالر (890 ملین یورو) کا اینٹی ٹرسٹ جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس اقدام
گوگل پر یورپی یونین کے جرمانے پر ٹرمپ برہم، تجارتی تحقیقات اور نئے ٹیرف کی دھمکی


واشنگٹن، 25 جولائی (ہ س)۔یورپی یونین (ای یو) کی جانب سے گوگل پر تقریباً ایک ارب ڈالر (890 ملین یورو) کا اینٹی ٹرسٹ جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ ”غیر منصفانہ سلوک“ قرار دیتے ہوئے یورپی یونین کے خلاف سیکشن 301 کے تحت تجارتی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے تو یورپی یونین پر نئے اور بھاری ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔

روسی بین الاقوامی خبر رساں ٹیلی ویژن نیٹ ورک آر ٹی (روسیا ٹوڈے) کے مطابق، یہ اعلان یورپی کمیشن کی جانب سے گوگل پر 890 ملین یورو کا اینٹی ٹرسٹ جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنے سرچ نتائج میں مسابقتی خدمات کے مقابلے میں اپنی خدمات کو غیر منصفانہ برتری دی۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ گوگل پر ایک ارب ڈالر، ایپل پر 15 ارب ڈالر، میٹا پر 3 ارب ڈالر اور ایمیزون پر 2.5 ارب ڈالر سمیت متعدد امریکی کمپنیوں پر عائد جرمانوں کا امریکہ اب جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر یورپی یونین پر جلد ہی بھاری ٹیرف نافذ کیے جا سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گوگل پر مجموعی طور پر 18 ارب ڈالر سے زائد جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔ تاہم دستیاب عوامی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں یورپی کمیشن کی جانب سے گوگل پر عائد مجموعی جرمانوں کی رقم اس سے کم رہی ہے، اس لیے ٹرمپ کا یہ دعویٰ متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔اسی ماہ کے آغاز میں گوگل یورپی یونین کے 4.6 ارب یورو کے ایک پرانے اینٹی ٹرسٹ جرمانے کے خلاف قانونی جنگ بھی ہار گیا تھا۔ یہ معاملہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں گوگل سرچ اور کروم کو پہلے سے انسٹال کرنے کی شرائط سے متعلق تھا۔

واضح رہے کہ سیکشن 301 امریکی حکومت کا ایک قانونی طریقہ کار ہے، جس کے تحت یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کسی غیر ملکی ملک کی تجارتی پالیسیاں امریکی کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ یا امتیازی سلوک کر رہی ہیں یا نہیں۔ اگر تحقیقات میں ایسے الزامات درست ثابت ہو جائیں تو امریکہ متعلقہ ملک پر اضافی ٹیرف یا دیگر تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ دریں اثنا، امریکی محکمہ خارجہ کے انڈر سیکریٹری جیکب ہیلبرگ نے بھی یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گوگل سے وصول کیا گیا جرمانہ یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کی بجٹ شراکت سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب امریکہ کو اپنی کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مو¿ثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande