
نیویارک، 24 جولائی(ہ س) ۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغربی ایشیا میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا خطہ ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں حالات قابو سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران’ناقابلِ تصور صورتحال‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق پورا خطہ بتدریج ایک وسیع تر تصادم کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے، جہاں ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی فوجی کارروائی کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث سیاسی حل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن پر غور کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے جلد فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم امریکی انتظامیہ نے اب تک کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔
خطے میں ممکنہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے پیشِ نظر برطانیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر ایران سے اپنے بعض سفارتی عملے کو عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب جرمنی نے بحیرہ احمر سے اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر اسرائیل کے متعدد شہروں میں بم شیلٹرز(بنگر) کھول دیے گئے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے خطے میں موجود امریکی شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ محکمے نے خبردار کیا ہے کہ اگر سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوئی تو فضائی پروازیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ خطے کو ایک وسیع جنگ کے خطرے سے بچایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan