
تہران، 24 جولائی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ایران کے ضبط شدہ اثاثوں کو استعمال کرنے کے بیان پر تہران نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ کسی ملک کے اثاثوں کو اس انداز میں ضبط کرنا بین الاقوامی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال ثابت ہوگا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس اور ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ مستقبل میں ممکنہ اور غیر متعلقہ دعوؤں کی تلافی کے لیے کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کرنا نہایت اشتعال انگیز اقدام ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومتیں دوسرے ممالک کے اثاثے ضبط کرنے کو معمول بنا لیں تو دنیا میں کسی بھی ملک کے مالی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا’’جو لوگ ایسے ضبط شدہ اثاثوں کے استعمال کا خیرمقدم کرتے ہیں یا ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر یہ روایت شروع ہو گئی تو پھر کسی کی بھی ملکیت محفوظ نہیں رہے گی۔ اس سے پیدا ہونے والی افراتفری نہ عالمی استحکام کے لیے بہتر ہوگی اور نہ ہی عالمی امن کے لیے۔‘‘
دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں، ان کے کارگو یا متعلقہ املاک کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ازالہ امریکہ کے کنٹرول میں موجود ایران کے ضبط شدہ اثاثوں سے کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مقصد کے لیے کون سا فنڈ استعمال کیا جائے گا۔
امریکی پابندیوں کے تحت ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے طویل عرصے سے منجمد ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان خطے میں فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan