
واشنگٹن، 24 جولائی (ہ س)۔ امریکہ نے ہندوستان سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کے روز سے نافذ العمل بھی ہو گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے بعد امریکی تجارتی نمائندے نے جبری مزدوری سے بنی اشیاءدرآمد کرنے پر ہندوستان سمیت 60 ممالک کے خلاف یہ کارروائی کی ہے۔ ان ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان سمیت 17 ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف اور 43 دیگر ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کیے گئے ہیں۔ امریکہ نے یہ کارروائی 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت کی ہے۔ نئے اضافی درآمدی محصولات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 12:01 بجے سے نافذ ہو گئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ارجنٹینا، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، ہندوستان، انڈونیشیا، اردن، ملیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو پر 10 فیصد اضافی درآمدی محصولات عائد کیے گئے ہیں۔ وہیں ،یوروپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کے لئے ایسی شرحیں طے کی گئی ہیں،جنہیں پہلے سے موجود’موسٹ فیورڈ نیشن‘کی ٹیرف شرحوں کے ساتھ جوڑنے پر کل شرح10 فیصد یا 12.5 فیصد تک ہوجائے گی۔
باقی 38 ممالک کے لیے 12.5 فیصد شرح مقرر کی گئی تھی۔ اس میں چین بھی شامل ہے، جس پر امریکہ نے ایغور اقلیتوں کو ورک کیمپوں میں رکھنے کا الزام عائد کیا ہے، حالانکہ بیجنگ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ امریکہ نے قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف بھی ختم ہو رہا ہے۔
امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمسن گریر نے کہا کہ امریکہ نے تقریباً ایک صدی سے جبری مزدوری سے منسلک مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد ہے اور واشنگٹن اب اپنے تجارتی شراکت داروں سے بھی ایسے ہی اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔ یہ کارروائی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو روکنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکہ نے عالمی سطح پر درآمدی محصولات بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے پہلے کے ”باہمی درآمدی محصولات“ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت نئے ٹیرف عائد کئے ہیں۔
وہیں، متعدد ممالک نے نئے محصولات پر احتجاج کیا ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے کہا کہ ان کے خلاف محصولات کی کوئی بنیاد نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس پہلے سے ہی واضح قوانین موجود ہیں جن کا مقصد جبری مزدوری سے بنائے گئے سامان کی تجارت کو روکنا ہے۔ آسٹریلیا اور برازیل نے نئے ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ انہیں منسوخ کرانے کی کوشش کریں گے۔
کینیڈا میں امریکی ٹریڈ معاملوں کے وزیر ڈومینک لیبلانک نے کہا،”ہم آنے والے ہفتوں میں اس معاملے اور دیگر زیر التوا معاملوں پر امریکہ کے ساتھ تعمیری طور پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ اپنے شہریوں کے فائدے کو یقینی بنایا جا سکے۔“
میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے ایک بیان میں ٹیرف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے لاگت بڑھے گی اور کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مو¿قف ہے کہ جبری مزدوری سے بنے سامانوں پر سخت کارروائی نہیں کرنے والے ممالک کو فائدہ ملتا ہے اور اس سے امریکی کمپنیوں کو نقصان ہوتا ہے۔ نئے ٹیرف سے عالمی سپلائی چین میں کارکنوں کے حقوق کے تحفظ میں مدد کریںگے ۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان محصولات سے درآمدات مزید مہنگی ہو سکتی ہے ۔امریکی صارفین بھی اضافی اخراجات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد