
واشنگٹن، 24 جولائی (ہ س)۔
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے اہم ایٹمی تعاون معاہدے کو لے کر وائٹ ہاوس نے بڑا بیان دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ تبھی حتمی شکل اختیار کرسکے گا، جب سعودی عرب ابراہم معاہدے میں شامل ہوکراسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا۔
روسی بین الاقوامی خبررساں ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’رشیا ٹوڈے‘ (آر ٹی) کے مطابق، وائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نقطۂ نظر سے یہ ڈیل اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی شرط پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سعودی قیادت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امریکہ کو امید ہے کہ ریاض جلد ہی ابراہم معاہدے کا حصہ بنے گا۔
تاہم، بدھ کے روز جب امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایٹمی تعاون معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا، تب اس طرح کی کسی شرط کا عوامی طور پر ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ وہیں، سعودی عرب پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت میں ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی، تب تک وہ اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہیں کرے گا۔
امریکی محکمۂ توانائی کے مطابق، توانائی کے سکریٹری کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے نام نہاد ’123 ایٹمی معاہدے‘ اور ایٹمی سلامتی کے اقدامات سے متعلق ایک اور معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے تحت امریکی ٹیکنالوجی اور ماہرانہ صلاحیتوں کی مدد سے سعودی عرب اپنا شہری ایٹمی توانائی پروگرام تیار کر سکے گا اور مستقبل میں ایٹمی ری ایکٹر قائم کر سکے گا۔
رپورٹوں کے مطابق، یہ معاہدہ سعودی عرب کو ملکی سطح پر یورینیم کی افزودگی (انریچمنٹ) کی اجازت بھی دے سکتا ہے۔ تاہم، اس میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ’ایڈیشنل پروٹوکول‘ کو لازمی نہیں بنایا گیا ہے۔ یہ پروٹوکول انسپکٹروں کو وسیع اختیارات دیتا ہے تاکہ کسی بھی غیر اعلانیہ ایٹمی سرگرمی کا پتہ لگایا جا سکے۔
اس شق کو لے کر امریکہ میں ایٹمی عدم پھیلاو (نیوکلیئر نان پرولیفریشن) کے ماہرین اور کئی اراکینِ پارلیمنٹ نے تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت ملتی ہے، تو مستقبل میں وہی ٹیکنالوجی ایٹمی ہتھیار بنانے کی سمت میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس سے مغربی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرتا ہے، تو سعودی عرب بھی اسی سمت میں قدم اٹھائے گا۔
یہ معاہدہ امریکی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر کے ایٹمی توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کا راستہ کھول سکتا ہے۔ تاہم، امریکی اٹامک انرجی ایکٹ کے تحت اس کے نافذ ہونے سے پہلے اسے امریکی کانگریس کے جائزہ اور منظوری کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ کانگریس کے ذریعے اس معاہدے کو روک پانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ صدر کے ویٹو کو منسوخ کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن