
حیدرآباد ،20 جولائی (ہ س)۔
نیٹ امتحان سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل پر حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران طلبہ تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ اگرنیٹ سے متعلق تنازعہ کے دوران 22 طلبہ کی مبینہ طورپرجانیں گئی ہیں توکیااس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرتعلیم کواستعفیٰ نہیں دینا چاہیے؟ مظاہرین نے الزام عائد کیاکہ ملک بھرمیں طلبہ اورمختلف تنظیموں کی جانب سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیےجانے کے باوجود وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیاجارہا۔
طلبہ تنظیموں نے نئی دہلی کے جنترمنترپراحتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر بھی شدیداعتراض کیا۔ مظاہرین نے سوال کیا کہ اگراحتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جائے تو کیا حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ احتجاج کرنے والی طلبہ تنظیموں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ طلبہ کے مستقبل اور ان کے مسائل کوترجیح دینے کے بجائے سیاسی عہدوں اوربڑے کاروباری مفادات کوزیادہ اہمیت دے رہی ہے۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ نیٹ امتحان اوردیگرمسابقتی امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور طلبہ کے مطالبات پر فوری توجہ دی جائے۔ طلبہ تنظیموں نے دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق