
جموں, 23 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل کمار شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی سابقہ حکومت نے کامن انٹرنس ٹیسٹ 2012 کے مبینہ پرچہ فروشی معاملے کے مرکزی ملزم کو نہ صرف ملازمت میں توسیع دی بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بطور کنسلٹنٹ تعینات کیا۔جمعرات کو جاری ایک بیان میں سنیل شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شفافیت اور جوابدہی پر بات کرنے سے قبل اپنے دور حکومت کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے کے سی ای ٹی 2012 کے سوالیہ پرچے فروخت کیے جانے کے مقدمے کے مرکزی ملزم مشتاق پیر کو حکومت نے ملازمت میں توسیع دی اور بعد از ریٹائرمنٹ کلاس چہارم کی فاسٹ ٹریک بھرتیوں کے لیے کنسلٹنٹ مقرر کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت حکومت اور اس کے ماتحت تحقیقاتی اداروں نے شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی اور معاملے میں پیش رفت صرف ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ہوئی۔شرما نے کہا کہ امیکس کیوری نے عدالت کو بتایا تھا کہ جے کے سی ای ٹی 2012 کے سوالیہ پرچے امتحان سے قبل بھاری رقم کے عوض فروخت کیے جانے کی اطلاعات تھیں، تاہم اس وقت کی ویجلنس آرگنائزیشن اور کرائم برانچ نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔بی جے پی رہنما نے مزید دعویٰ کیا کہ 2025 کے جے ای الیکٹریکل امتحان کے دوران بھی پرچہ لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے تھے، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، ان الزامات پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ یا نیشنل کانفرنس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر