چنڈی گڑھ میں برکس وزرائے صحت کی میٹنگ کا دوسرا دن، ڈیجیٹل ہیلتھ اور وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاریوں پر غور و خوض
۔ بھارت نے دنیا کے سامنے جامع صحت اور روایتی طب کی مالا مال وراثت پیش کی
۔ بھارت نے دنیا کے سامنے جامع صحت اور روایتی طب کی مالا مال وراثت پیش کی


چنڈی گڑھ، 22 جولائی (ہ س)۔ چنڈی گڑھ میں 16ویں برکس وزارتی صحت میٹنگ کے دوسرے دن بدھ کو رکن ممالک کے سینئر حکام اور ماہرین نے ڈیجیٹل ہیلتھ، روایتی طب، وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاریوں اور مضبوط صحت نظام کی تعمیر پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سیکریٹری سطح کی میٹنگوں میں برکس ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طبی خدمات کو زیادہ مؤثر اور قابل رسائی بنانے پر زور دیا گیا۔

میٹنگ کے دوران مرکزی صحت سکریٹری پنیہ سلیلا شری واستو نے برکس ممالک سے آئے سینئر نمائندوں کے ساتھ خصوصی یوگا سیشن میں حصہ لیا۔ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہنے والے یوگا پروٹوکول کے ذریعے غیر ملکی مہمانوں کو بھارت کی قدیم یوگا روایت اور جامع صحت کے نقطہ نظر سے واقف کرایا گیا۔ یوگا سیشن نے رکن ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے جذبے کو بھی مضبوط کیا۔ میٹنگ میں یوگا کو جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی فلاح و بہبود کے لیے بھی مفید قرار دیا گیا۔

اس موقع پر آیوش وزارت کی جوائنٹ سکریٹری مونالیسا داس، آیوش وزارت کے مشیر (آیوروید) ڈاکٹر اے رگھو اور وزارت کے دیگر حکام نے مختلف اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے روایتی، تکمیلی اور مربوط طبی نظام کے شعبوں میں تحقیق، جدت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر اپنے خیالات پیش کیے۔

برکس ممالک کے نمائندوں نے میٹنگ مقام پر قائم کیے گئے آیوش زون کا بھی دورہ کیا۔ یہاں انہیں آیوش غذا، یوگا، فلاح و بہبود، جڑی بوٹیوں کی وراثت، آیورویدک مصنوعات اور تحقیق و جدت سے متعلق اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ بھارت نے اس نمائش کے ذریعے اپنی قدیم طبی روایت کو جدید صحت نظام کے ساتھ جوڑنے کا ماڈل پیش کیا۔

نمائندوں نے بھارت کے ڈیجیٹل ہیلتھ ایکو سسٹم، آیوش پویلین اور بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی وین کا بھی معائنہ کیا۔ فوڈ سیفٹی وین میں ’ہیلتھی اسنیکس اینڈ لیڈرز‘ کھیل کے ذریعے صحت مند خوراک اور متوازن غذا کا پیغام دلچسپ انداز میں دیا گیا۔

میٹنگ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں وبائی امراض جیسی صحت سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان بروقت معلومات، ٹیکنالوجی اور ماہرین کے تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande