
نئی دہلی،22جولائی(ہ س)۔ نیٹ پرچہ لیک اور طلبہ پر مبینہ پولیس لاٹھی چارج کے معاملے پر بدھ کو لوک سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن نے ان معاملات پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا، جس کے دوران سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اسپیکر اوم برلا کے رویے پر ناراض ہو گئے۔ہنگامہ اس وقت بڑھا جب پارلیمانی امور کے وزیر کرن رججو نے حکومت کی جانب سے بحث کی پیشکش کی، جس کے بعد کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اپنی بات رکھی۔ اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ تمام فریق بحث چاہتے ہیں، حکومت بھی اس کے لیے تیار ہے، لیکن ایوان کی کارروائی قواعد کے مطابق ہی چل سکتی ہے اور اس انداز میں کارروائی نہیں ہو سکتی۔اس پر اکھلیش یادو نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے حکومت اور کانگریس دونوں کو بولنے کا موقع دیا، مگر انہیں اظہارِ خیال کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’ان کی بھی بات ہو گئی، ان کی بھی بات ہو گئی، ہمارا کیا؟ کہیں کانگریس اور حکومت کے درمیان کوئی ڈیل تو نہیں ہو گئی؟‘اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ملک کے طلبہ کے مستقبل سے متعلق ہے، اس لیے تمام جماعتوں کو اپنی بات رکھنے کا مساوی موقع ملنا چاہیے۔بعد ازاں اسپیکر اوم برلا نے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی۔اس سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت گزشتہ تین روز سے اپوزیشن کو نیٹ پرچہ لیک معاملے پر بحث کی پیشکش کر رہی ہے اور آج بھی اس کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحث قواعد و ضوابط کے تحت ہوگی اور اس کا طریقہ کار طے کرنا ضروری ہے۔ رججو نے اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ تمام جماعتوں کے فلور لیڈروں سے مشاورت کے بعد بحث کا وقت، دورانیہ اور متعلقہ قواعد طے کریں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan