ٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، کہا ایران مذاکرات کیلئے بھیک مانگ رہا ہے
واشنگٹن،22جولائی(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور واشنگٹن سے ملاقات کا خواہاں بھی ہے، تاہم موجودہ حالات میں امریکی انتظامیہ ایسی کسی ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح
ٹرمپ


واشنگٹن،22جولائی(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور واشنگٹن سے ملاقات کا خواہاں بھی ہے، تاہم موجودہ حالات میں امریکی انتظامیہ ایسی کسی ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف امریکی دباؤ اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی۔وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ابھی امریکی طاقت کا مکمل اندازہ نہیں لگایا اور امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنا کام ابھی ختم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج مسلسل دسویں رات بھی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتی رہی۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور جہاں بھی ایسے ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی، امریکہ اس تنصیب کو نشانہ بنائے گا۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ بہت جلد ایران کے علاقے جبل الفأس کو بھی نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ایران کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگی نقصانات کے بعد ایران کی تعمیرِ نو میں 20 سے 25 سال لگ سکتے ہیں۔بحر احمر میں کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت امریکہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بحر احمر میں کوئی نئی صورتحال پیدا ہوئی تو امریکہ خود اس کا جواب دے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں بھی امریکہ نے حوثیوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی تھیں، جن کے بعد ایک عرصے تک ان کی جانب سے کوئی بڑی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ ان کا اشارہ مئی 2025 میں عمان کی ثالثی کے ذریعے ہونے والی جنگ بندی سے قبل امریکی حملوں کی طرف تھا۔ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے خطے میں اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ دو ہفتے قبل مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی جنگی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔دوسری جانب پاکستان، جس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی تھیں، ایک بار پھر تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی اقدامات کریں۔ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے بحر احمر میں کارروائیوں اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکیوں کے باعث جنگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande