
تہران/واشنگٹن، 22 جولائی (ہ س)۔ امریکہ نے مسلسل 11ویں رات ایران کے فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام ) کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹ کام نے ایکس پر لکھا، ”آج مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے (مشرقی وقت)، ایرانی فوجی اہداف کے خلاف حملے کیے گئے۔ حملوں کی یہ مسلسل 11ویں رات ہے۔“ امریکی حملوں کی تازہ ترین سیریز کے جواب میں تہران کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
سی این این، الجزیرہ، اے بی سی نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹوں کے مطابق ایران نے امریکی حملے کے پیش نظر دارالحکومت تہران کے کئی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران کے مغربی، مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سینٹ کام نے کہا، ”گزشتہ تین مہینوں کے دوران، ایران نے علاقائی اور عالمی تجارت کے لئے اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30سے زیادہ کمرشیل جہازوں پر حملہ کیا ہے۔ بلا وجہ حملوں نے سینکڑوں معصوم ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچایا ہے۔“
دریں اثنا، قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ آل سعود سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ قطر کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، دونوں رہنماو¿ں نے کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے اور رابطوں کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
شیخ محمد نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو سفارت کاری پر کاربند رہنا چاہیے اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت میں طے شدہ شقوں پر عمل درآمد کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ امریکہ- ایران جنگ کا معاملہ امریکی سینیٹ میں اٹھایا گیا۔ جنگ کے سکریٹری پیٹ ہیگستھ کو کانگریس کی سماعت کے دوران حزب اختلاف کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جس میں ایران میں فوجی آپریشن اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کے سوال شامل رہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ حملہ کیا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ان کے خاندان کے کئی افراد اور سینئر کمانڈر پہلے ہی دن مارے گئے تھے ۔ اس دوران صلح کی کوششیں کی گئیں۔ جون میں امریکی اور ایرانی وفود نے بات چیت شروع کی۔ جنگ بندی بھی ہو گئی۔ اس کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان حملے جاری رہے۔ اس کے بعد سے آبنائے ہرمز کشیدگی کا بنیادی مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکی دفاعی ہیڈکوارٹر پینٹاگون نے اردن کے ایک فضائی اڈے پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے تیسرے فوجی کی شناخت کر لی ہے۔ محکمہ دفاع نے ایک بیان میں کہا، ”خیال کیا جاتا ہے کہ نیویارک کے اوزون پارک کے 28 سالہ سارجنٹ اینجل ایس رام پرساد 17 جولائی کو اردن کے موفق سالٹی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔“
سینٹ کام نے پہلے فوجی کو لاپتہ کے طور پر درج کیا تھا۔ محکمہ نے کہا کہ اس حملے میں ٹیکساس کے کیرولٹنکی 19 سالہ ازابیلا گونزالز اورہوائی کے ایوا بیچ کے 25 سالہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر فیہان بھی ہلاک ہوگئے۔
محکمہ دفاع نے عراق میں ہلاک ہونے والے ایک فوجی کی بھی شناخت کی ہے۔ اس سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 18 ہو گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو حالیہ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی ایک باوقار منتقلی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ تقریب صبح 11 بجے ڈیلاویئر میں ڈوور ایئر فورس بیس پر ہوگی۔
دریں اثنا، ایران بھی پوری طرح سے جارح ہے۔ کویت نے کہا کہ وہ ایرانی ڈرون حملوں کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔ اس کا فضائی دفاعی نظام حملوں کو روک رہا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے کہا ہے کہ کویت کے علی السلم بیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد