امریکی مسلح افواج کو 1.5 ٹریلین ڈالر کی ضرورت، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین نے سینیٹ کو وجہ بھی بتائی
امریکی مسلح افواج کو 1.5 ٹریلین ڈالر کی ضرورت، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین نے سینیٹ کو وجہ بھی بتائی واشنگٹن، 22 جولائی (ہ س)۔ امریکی مسلح افواج کو موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے فوری طور پر 1.5 ٹریلین ڈالر (ہندوستا
امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین منگل کو امریکی محکمۂ دفاع کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اضافی فنڈنگ کے مطالبے پر سینیٹ ایپروپری ایشن کمیٹی کی سماعت کے دوران اپنا موقف پیش کرتے ہوئے۔ فوٹو گریب: سی این این


امریکی مسلح افواج کو 1.5 ٹریلین ڈالر کی ضرورت، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین نے سینیٹ کو وجہ بھی بتائی

واشنگٹن، 22 جولائی (ہ س)۔ امریکی مسلح افواج کو موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے فوری طور پر 1.5 ٹریلین ڈالر (ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 130 لاکھ کروڑ روپے) کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے منگل کے روز سینیٹ سے 1.5 ٹریلین ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کو منظوری دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مسلح افواج کو مستقبل کے فوجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے، اہم ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے اور دشمنوں سے آگے رہنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی اس درخواست کو قبول کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ڈین کین نے سینیٹ کی ایپروپری ایشن کمیٹی کے سامنے گواہی دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تاریخی بجٹ کی تجویز میں پہلے ہی دفاعی بجٹ کو بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بھاری اضافہ ہے۔ اس وجہ سے ملکی پروگراموں میں کٹوتی کی تجویز پیش کی گئی۔ ڈین کین امریکی سکریٹری آف وار پیٹ ہیگسیٹھ کے ساتھ گواہی دینے پہنچے۔ انہوں نے کہا، ’’میں آج آپ سے مدد مانگنے آیا ہوں۔ مسلح افواج کو 1.5 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ یہ اضافی فنڈ اسی کا ایک حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے سینیٹ سے اس فنڈ کا استعمال فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں، آپریشنز اور دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے اور اہم ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کرنے کی اجازت مانگی۔

ہیگسیٹھ نے کہا کہ اس مالی امداد سے امریکہ آبنائے ہرمز میں آپریشن جاری رکھنے، روس اور چین جیسے دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں مزید اہل ہوگا۔ ہیگسیٹھ نے کہا کہ ہم ایک خطرناک دنیا میں رہتے ہیں۔ اس کے لیے دلیرانہ اور فوری اقدام کی ضرورت ہے۔ اس لیے مالی سال 27-2026 کے لیے یہ اضافی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس پر سینیٹرز کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور امریکی عوام کو پینٹاگون سے کچھ جوابات چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں امریکی عوام کو یہ سمجھانے کا طریقہ نکالنا ہوگا کہ ہم وہاں کیوں گئے اور کیسے باہر نکلیں گے اور ایسا کرتے ہوئے ہم ایران کی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو کیسے کم کریں گے۔‘‘

ڈیموکریٹک سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ ہیگسیٹھ اور کین جنگ کے اخراجات کو درست ثابت نہیں کر سکے۔ دونوں یہ نہیں بتا پا رہے ہیں کہ یہ پیسہ کیسے خرچ کیا جائے گا۔ ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وین ہولن نے الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ جی او پی سینیٹر جان ہووین نے جنگ پر خرچ ہوئے اربوں ڈالر کے بارے میں کہا، ’’دیکھیے، یہ ایک ایسا کام ہے جو ہمیں کرنا ہی ہے۔ آخر کار، آپ جانتے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونا ایک بڑا خطرہ ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande