
چنئی، 22 جولائی (ہ س): تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ اور تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) کے سربراہ سی جوزف وجے نے دہلی میں میڈیکل داخلہ جاتی امتحان نیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی گرفتاری کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو طلبہ اور نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کے خدشات کا حل نکالنا چاہیے۔
دراصل، دہلی کے جنتر منتر پر 20 جولائی سے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج کیا گیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اس کے بعد طلبہ کی حمایت اور مرکزی حکومت کے خلاف منگل کے روز وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرنے والے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس کے کئی دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد مختلف اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسی سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ وجے نے اپنی جماعت تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) کے ایکس ہینڈل پر جاری بیان میں کہا کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف تحریک چلانے والے نوجوانوں کی حمایت میں پہنچنے والے راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی یہ کارروائی قابلِ مذمت ہے اور دہلی میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ٹی وی کے پارلیمنٹ احاطے میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
وجے نے کہا کہ نیٹ امتحان کے بارے میں ان کی جماعت کا مؤقف ابتدا ہی سے واضح اور غیر متزلزل رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ امتحانی نظام طلبہ اور ان کے خاندانوں پر غیر ضروری ذہنی اور سماجی دباؤ ڈالتا ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سیاسی فائدہ اٹھانے یا جھوٹے وعدے کرنے کے بجائے مضبوط آئینی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر نیٹ جیسے مرکزی امتحانی نظام کو ختم کرنا ہے تو تعلیم کو دوبارہ ریاستی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ وجے کے مطابق یہی اس مسئلے کا مستقل حل ہے۔ اگر فوری طور پر ایسا ممکن نہ ہو اور کوئی آئینی یا قانونی رکاوٹ موجود ہو تو عبوری انتظام کے طور پر ایک خصوصی مشترکہ فہرست (اسپیشل کنکرنٹ لسٹ) تشکیل دی جانی چاہیے، جس کے ذریعے ریاستوں کو تعلیم اور طبی تعلیم سے متعلق امور میں زیادہ اختیارات دیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم اور طبی تعلیم جیسے شعبوں پر ریاستوں کو مکمل اختیار ملنے سے مقامی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنائی جا سکیں گی اور طلبہ کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا۔ وجے نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے اپنے قیام کے موقع پر منعقدہ تعلیمی انعامات کی تقسیم کی تقریب میں بھی اس موضوع پر اپنی پالیسی اور وژن کی تفصیل پیش کی تھی۔
وزیرِ اعلیٰ وجے نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ طلبہ اور عوام کے جذبات کا احترام کرے اور ملک بھر میں اٹھنے والے اس مطالبے کو سنجیدگی سے لے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد