پولیس کارروائی نہ کیے جانے کی یقین دہانی ملنے پر توڑ دوں گا بھوک ہڑتال: وانگ چک
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگ چک نے مرکزی وزیر جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ تحریک میں شامل نوجوانوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ کیے جانے کی یقین دہانی ملنے پر وہ اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک
پولیس کارروائی نہ کیے جانے کی یقین دہانی ملنے پر توڑ دوں گا بھوک ہڑتال: وانگ چک


نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگ چک نے مرکزی وزیر جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ تحریک میں شامل نوجوانوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ کیے جانے کی یقین دہانی ملنے پر وہ اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔ وانگ چک نے اپنا یہ خط ایکس پر شیئر کیا ہے۔

وانگ چک نے خط میں کہا، اگر حکومت مظاہرے میں شامل نوجوانوں کے خلاف کسی بھی طرح کی تعزیری یا قانونی کارروائی نہ کرنے کی واضح یقین دہانی کراتی ہے تو وہ اعتماد کے ساتھ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

وانگ چک نے دونوں مرکزی وزراء کا اسپتال آکر ان سے ملاقات کرنے اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزراء نے امتحانی سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ دینے، پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث کرانے، تعلیم کے وزیر کی جواب دہی اور ان کے استعفے پر غور کرنے سمیت دیگر امور پر مثبت یقین دہانی کرائی۔

وانگ چک نے کہا کہ 20 جولائی کو منعقدہ پارلیمنٹ مارچ پولیس کی مبینہ سختی اور قوت کے استعمال کے باوجود مکمل طور پر پُرامن رہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تحریک میں شامل لوگوں کے خلاف کوئی قانونی مقدمہ، ہراسانی یا انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزراء کی ملاقات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے تقریباً 65 ارکان پارلیمنٹ نے بھی انہیں خط لکھ کر اور ذاتی طور پر ملاقات کر کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

وانگ چک نے کہا کہ وہ ملک، طلبہ اور تعلیم کے لیے اپنا کام جاری رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ان نوجوانوں کی قیمت پر نہیں جن کے لیے یہ تحریک شروع کی گئی ہے۔ بصورت دیگر انہیں اپنی بھوک ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande