
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے عرضی گزار سے کہا کہ وقت ضائع نہ کریں، آپ کا وقت ہم سے زیادہ قیمتی ہے۔
عرضی گزار نے کہا کہ انہوں نے ایک اہم مطالبہ کو حل کرنے کے لیے عرضی داخل کی تھی: کہ حکومت نیٹ امتحان کو منصفانہ طریقے سے منعقد کرے اور پولیس نے پرامن احتجاج کرنے والے طلباءکے خلاف مظالم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے بعد عدالت ایک اور معاملہ کی سماعت کے لیے چلی گئی۔ درخواست گزار نے مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کی ویڈیو دکھا سکتے ہیں۔ عدالت نے پھر کہا کہ اس کے پاس ویڈیو دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی پیپر لیک کے الزامات کے بعد مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 جون سے جنتر منتر پر احتجاج کر رہی ہے۔ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال شروع کی۔ تقریباً 20 دن کی بھو ک ہڑتال کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا۔
مظاہرین نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا، اس دوران دارالحکومت میں کئی مقامات پر مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ مظاہرے کے دوران متعدد مقامات پر مظاہرین کے خلاف پولیس کی بربریت کا استعمال کیا گیا۔ دہلی پولیس نے کئی مقامات پر طلباءپر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ اس معاملے میں کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن، پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن اور دیگر تھانوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی