
لینڈ پولنگ یوجنا ، کھاد اور ایندھن کی قیمتوں کو لے کر بھی احتجاج کیا گیا
چندی گڑھ، 22 جولائی (ہ س)۔ سنیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کی کال پربدھ کو پنجاب بھر کے کسانوں نے مجوزہ ہندوستان-امریکہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)، پنجاب حکومت کی لینڈ پولنگ یوجنا اور دیگر زیر التوا مطالبات کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران ریاست کے کئی ٹول پلازوں کو دوپہر 12 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ٹول فری رکھا گیا اور گاڑیاں بغیر ٹول فیس ادا کیے گزر گئیں۔ بھٹنڈہ ضلع کے جیدا، لہرا بیگا، بلوانہ، جسی بگوالی اور شیخ پورہ میں واقع ٹول پلازوں پر کسانوں اور خواتین کسانوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی۔
مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے، بھارت-امریکہ کے مجوزہ ایف ٹی اے کو منسوخ کرنے، یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے اور پٹرول، ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ لدھیانہ کے لالڈووال، گلال اور چوکیمان ٹول پلازوں کو بھی تین گھنٹے کے لیے ٹول فری رکھا گیا۔ کسان لیڈروں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کارپوریٹ نواز پالیسیاں نافذ کر رہی ہے اور کسانوں، مزدوروں اور ملازمین کے مطالبات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ احتجاج کے دوران بعض ٹول پلازوں پر انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی اور وہاں سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں کے موبائل نمبر بھی ریکارڈ کر لیے گئے۔
کسانوں کا کہنا تھا کہ اگر بعد میں کسی گاڑی کا ٹول خود بخود کاٹا جاتا ہے تو اس کی روک تھام کے لیے کارروائی کی جائے گی۔ کسانوں نے پٹھان کوٹ-امرتسر روڈ پر لدپالواں ٹول پلازہ پر بھی دھرنا دیا، گاڑیوں کے ٹول فری گزرنے کو یقینی بنایا۔ سنیوکت کسان مورچہ کے ماجھا سربراہ بلویندر سنگھ نے کہا کہ اگر فاسٹیگ کے ذریعے کسی بھی گاڑی کا ٹول کاٹا جاتا ہے تو متعلقہ شخص کو مورچہ سے رابطہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ ایسی صورت حال میں تحریک مزید تیز کی جائے گی۔ کسان رہنماو¿ں نے کہا کہ ہندوستان-امریکہ ایف ٹی اے پنجاب کی زراعت اور ڈیری کے شعبوں کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت معاہدے کی شرائط کو عام نہیں کر رہی ہے۔ کسانوں نے پنجاب حکومت کی لینڈ پولنگ یوجنا کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زرخیز زمین کسی بھی قیمت پر حکومت کو نہیں دیں گے۔
مظاہرین نے دہلی میں نیٹ اور دیگر مسابقتی امتحانات سے متعلق پیپر لیک ہونے اور احتجاج کرنے والے طلباءپر پولیس کے لاٹھی چارج کی بھی مذمت کی۔ کسان رہنماوں نے کہا کہ اگر مرکزی اور پنجاب حکومتوں نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت آئے گی۔ پولیس اور انتظامیہ نے ریاست بھر میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کئے ہیں۔ زیادہ تر مقامات پر احتجاج پرامن رہا اور کسی بڑے واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی