
ممبئی/نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س)۔ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے سرکردہ رہنما منوج جارانگے پاٹل نے نئی دہلی کے جنترمنترپہنچ کرابھیجیت دیپکے کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تومہاراشٹرسے بڑی تعداد میں مراٹھا برادری دہلی پہنچ کراحتجاجیوں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوارگروپ کے بیڑسے رکن پارلیمنٹ باجرنگ سوناونے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے منوج جارانگے پاٹل نے کہا کہ موجودہ تحریک کو مراٹھا سماج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اگر احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی یا انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی تو پوری برادری ان کے ساتھ کھڑی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کو صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے بھی لوگوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر احتجاجی قیادت کومستقبل میں مزید عوامی تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی تو مہاراشٹر سے ہزاروں افراد دہلی پہنچ کر اس تحریک میں حصہ لیں گے۔ ان کے مطابق وہ پہلے ہی احتجاج کی قیادت کو یقین دلا چکے ہیں کہ جب بھی انہیں ضرورت ہوگی، وہ اور ان کے حامی ہر ممکن تعاون کے لیے موجود ہوں گے۔ منوج جارانگے پاٹل نے احتجاج میں شریک طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ہر حال میں اپنا احتجاج پرامن رکھیں اور کسی بھی صورت پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی قدم انتظامیہ کو کارروائی کا موقع فراہم کر سکتا ہے، جبکہ پرامن اور منظم احتجاج ہی عوامی حمایت حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی مختلف تحریکوں نے پُرامن انداز اختیار کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اورآئینی دائرے میں رہتے ہوئے بھی اپنے مطالبات منوائے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جنتر منتر ملک میں پرامن احتجاج کے لیے مختص مقام ہےاورآئین ہرشہری کواپنے مطالبات کے اظہارکا حق دیتا ہے، اس لیے پرامن احتجاج کو روکا نہیں جانا چاہیے۔جارانگے پاٹل نے مظاہرین کو مشورہ دیا کہ وہ جنتر منتر کا مقام نہ چھوڑیں، کیونکہ اگر احتجاج قبل ازوقت ختم کر دیا گیا تو تحریک کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مسلسل اور پُرامن جدوجہد ضروری ہے اور اس تحریک کو کسی ایک طبقے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے طلبہ اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے حقوق سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو اپنی ریاستوں میں انصاف حاصل نہیں ہوتا تو وہ قومی دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں تاکہ ان کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔ ان کے مطابق منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل سنیں، کیونکہ انہیں عوام ہی نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے۔ منوج جارانگے پاٹل نے کہا کہ اگر مستقبل میں بھی پُرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں تو عوام میں ناراضگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی جذبات اور جمہوری حقوق کا احترام کریں اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ان کے جنتر منتر پہنچنے کے بعد بڑی تعداد میں حامی احتجاجی مقام پر جمع ہوئے، جس سے جاری تحریک کو مزید تقویت ملی اور احتجاج میں شریک افراد کے حوصلے بھی بلند ہوئے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے