جنتر منتر پر پولیس کارروائی پرممبئی کے سرکردہ عیسائی مذہبی پیشوا کا اظہار تشویش
ممبئی ، 22 جولائی (ہ س): رومن کیتھولک آرچ ڈائیوسیز آف بامبے کے معاون بشپ ساویو فرنانڈس نے دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کو جمہوری اقدار کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے م
Politics-India-Jantar-Mantar-P


ممبئی ، 22 جولائی (ہ س): رومن کیتھولک آرچ ڈائیوسیز آف بامبے کے معاون بشپ ساویو فرنانڈس نے دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کو جمہوری اقدار کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور اگر کسی بھی فریق سے زیادتی ہوئی ہے تو اس کی قانونی ذمہ داری طے کی جا سکے۔

20 جولائی کو پیش آنے والے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے بشپ ساویو فرنانڈس نے کہا کہ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ پرامن احتجاج میں شریک نوجوانوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ طلبہ اپنے آئینی حق کے تحت پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کا استعمال کر رہے تھے اور ان کے مطالبات ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر مبنی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوری نظام اختلافی آوازوں یا پرامن احتجاج سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ ایسی آوازوں کو سن کر مسائل کے حل کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے مطابق جمہوری اداروں کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ عوام کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیں اور اگر کسی شعبے میں خامیاں موجود ہوں تو انہیں دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

بشپ فرنانڈس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف پولیس کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ آیا احتجاج کے دوران کسی نے جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنے یا مظاہرین کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی شخص کا کردار تشدد یا اشتعال انگیزی میں ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ انہوں نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو سفید چادروں کی آڑ میں تحویل میں لینے سے متعلق منظر عام پر آنے والی تصاویر پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق ان تصاویر نے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارروائی کے طریقہ کار کے حوالے سے کئی اہم خدشات پیدا کیے ہیں، جن کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

معاون بشپ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں دفاعی مؤقف اختیار کرنے کے بجائے ذمہ دارانہ طرز عمل اپنائے اور اگر پرامن مظاہرین کے خلاف غیر ضروری طاقت استعمال ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے منتخب ہونے والی حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور آئین کی روح کے مطابق حکمرانی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی مینڈیٹ کسی بھی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ اختلاف رائے کو نظر انداز کرے یا تنقید کو دشمنی تصور کرے۔ ان کے مطابق حکومتیں عوام کی خدمت کے لیے قائم ہوتی ہیں، اس لیے انہیں شہریوں کے آئینی حقوق اور جمہوری آزادیوں کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔

ادھر منگل کو سامنے آنے والی بعض میڈیا رپورٹس اور ویڈیوز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ احتجاج کے دوران بعض افراد کی جانب سے پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندوں کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔ ایک ٹیلی ویژن چینل کے صحافی نے الزام عائد کیا کہ چند افراد نے ان پر حملہ کیا، ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور ان کا موبائل فون، پرس اور چشمہ بھی چھین لیا۔ ان اطلاعات کے بعد واقعے کے تمام پہلوؤں کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande